بجٹ سے حکومت نے آئی ایم ایف کا پھندا عوام کے گلے میں کس دیا

28

پشاور(وقائع نگار خصوصی) جماعت اسلامی پشاور کے امیر عتیق الرحمن نے بجٹ 2019-20ء پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ڈکٹیشن پر بجٹ تیار کیا ہے عوام کو سہولت کم کردی گئی ہے لیکن ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر زیادہ کردیا گیا ہے ۔ اس طرح آئی ایم ایف کا پھندہ عوام کے گلے میں مزید کس دیا گیا ہے ۔ موجودہ بجٹ میں عام آدمی کے ضروریات زندگی مثلاً غلہ ، اناج ، خوردنی ، تیل وغیرہ کو مہنگا کردیا گیا ہے جبکہ تنخواہ دارطبقے کے لیے تنخواہ میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ تاجر پیشہ افراد کے لیے تجارتی لین دین میں سختی پیدا کی گئی ہے ۔جس سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونگی نتیجتاً بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونگی اور آبادی کا ہر طبقہ متاثر ہوگا۔ بجٹ کا ایک بڑا حصہ عالمی مالیاتی اداروں کو سود کی مدمیں چلاجائے گا۔ بجٹ میں کسی ایسے بڑے منصوبے کو جگہ نہیں دی گئی جو مستقبل میں قومی آمدن کا ذریعہ بن سکے اور پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔ گزشتہ چالیس دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں بارہ روپے اضافہ کیا گیا اور بجٹ میں پیٹرول کو مزید مہنگا کرنے کی تجویز افسوسناک ہے ہونا تو چاہیے تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام ایندھن کی قیمتیں کم ہونے پر بجٹ میں پیٹرول کی قیمتیں ملک میں کم کرنے کی تجویز ہوتی لیکن حکومت نے پیٹرول کے ذریعے عوام کی جیب خالی کرنے کی ٹھانی ہے ۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ ٹیکس سے ریاستیں چلائی جاتی ہیں لیکن مہذب ممالک میں عوام سے جمع ہونے والا ٹیکس عوام کی فلاح وبہبود پر لگایا جاتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں حکمران ٹیکس کے پیسوں پر اپنی شاہ خرچیاں کرتے ہیں اور کرپشن کرکے باہر ممالک اپنی جائدادیں بناتے ہیں اس لیے عام آدمی ٹیکس دینے سے کتراتا ہے بجٹ میں عوام کو تعلیم ، صحت ، روزگار ، انصاف تک رسائی اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں نظر نہیں آرہی اس لیے عوام بجٹ کو پھانسی کا پھندہ تصور کررہے ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ دفاعی بجٹ میں کٹوتی پر بھی عوام پریشان ہیں اس وقت جغرافیائی حوالوں سے پاکستان جن مشکل حالات سے دوچارہے اس کے حل کے لیے مضبوط دفاع وقت کی ضرورت ہے لیکن لگتا ہے یہ سب بھی عالمی دبائو پر کیا جارہا ہے بجٹ 2019ء پیش کرکے موجودہ حکومت نے اپنی نااہلی پرایک اور مہرثبت کردی ہے ۔