بجٹ کا بنیادی ڈھانچہ آئی ایم ایف سے معاہدوں کی عکاسی کرتا ہے

54

لاہور (نمائندہ جسارت) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمزنے بجٹ 2019-20ء پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محصولات میں 33فیصد اضافے کا ہدف معاشی شرح نمو کیلیے ایک چیلنج سے کم نہیں ۔بجٹ کا بنیادی ڈھانچہ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں کی عکاسی کرتا ہے بجٹ پر تجزیہ کرتے وقت ہمیں موجودہ سیاسی پس منظر کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ کن مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ صنعت کاروں کا اس بجٹ میں کیا ری ایکشن ہے اور محصولات کیلیے کیا اقدام اٹھائے جار رہے ہیں کیونکہ آنے والے ہفتوں میں اس سلسلے میں بہت لے دے ہو گی ۔ نظر ثانی شدہ 2018-19کے ریونیو ہدف مزید 33%فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔لہذا ریونیو کے اس ہدف کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔آئی پی آر نے اپنے حقائق نامہ میں تجویز دی ہے کہ ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ ریونیو پیدا کرنے کیلیے معاشی سرگرمیوں کو عروج پر لیجانا ہو گا ۔ اور اس پر ایک سخت ما نیٹرنگ سسٹم لاگو کرنا ہو گا ۔ حقائق نامہ میں اس خدشے کا ظہار کیا گیاہے کہ محصولات میں اضافے کے باوجود مالی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کے7.1 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے ۔جہاں تک محصولات کا تعلق ہے یہ براہ راست ٹیکسز کے ذریعے اکٹھا کیا جائیگا جس سے ایک عام شہری کی ویلفیئر اور معاشی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا تاہم اگر معاشی سرگرمیاں زیادہ ہو نگی تو ٹیکس بھی زیادہ سے زیادہ پیدا کیا جائے گا ۔ لیکن ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ حکومت یہ دونوں ہدف کس طرح حاصل کر سکے گی ۔ آئی پی آر کے حقائق نامے میں یہ بتایا گیا ہے کہ اخراجات کو پورا کرنے کیلیے ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ ملک کے اندر بیرونی قرضوں کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے نمٹنے کیلیے ٹیکس میں اضافہ کرنا ضروری تھا اور اس لحاظ سے موجودہ حکومت بھی صحیح ہے کہ یہ مشکلات دوسروں کی پیدا کردہ ہیں ۔آئی پی آر کے حقائق نامے کے مطابق بجٹ میں اکانومی کی تعمیر نو کیلیے کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی اس کے علاوہ پچھلے پانچ سال سے برآمدات ایک جگہ پر کھڑی ہیں اور اب بھی اس کی بہتر ی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا اگرچہ اس سال برآمدات میںکچھ اضافہ ہو اہے ۔اضافی ٹیکس اور دی گئی مراعات کو واپس لینا اگرچہ ضروری تھا لیکن اس کی وجہ سے صنعتی شعبہ متاثر ہو گا ۔موجودہ بجٹ کے ساتھ ایک سالانہ منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے جس میں بڑے پیمانے کی معاشی سرگرمیوں کا فرایم ورک دیا گیا ہے۔ معیشت کی شرح نمو کا ٹارگٹ 2020کا 4فیصد دیا گیا ہے اور کرنٹ اکاوئنٹ خسارے کا ہدف منفی 3فیصد دیا گیا ہے جو کہ مالی سال 2019 ء کی نسبت بہت کم ہے جبکہ جی ڈی پی گروتھ کا ہدف بھی قابل عمل محسوس ہو تا ہے ۔ آئی پی آر کے حقائق نامے کے مطابق یہ چیز حوصلہ افزاء ہے کہ آبی وسائل اور پن بجلی سیکٹر کیلیے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے جبکہ ائیر ایجو کیشن کمیشن اور ریلوے کے لیے مختص کی گئی رقم نا کافی معلوم ہوتی ہے ۔