سویرا کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے، مسمات نسیمہ

30

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) مسمات سویرا کا قاتل آزاد، مقتولہ کی والدہ اور ماموں کا مقتولہ کی تین یتیم بچیوں کے ساتھ احتجاج۔ مقتولہ سویرا کی بیٹیوں ناز بے بی، فزا اور نشا بے بی کو لے کر مقتولہ کی والدہ مسمات نسیمہ نے اپنے بھائی وزیر علی شر کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ عبدالستار ولد اللہ ورایو شر کی سربراہی میں محمد امین، عبدالمجید، نجب، شفیع، ثنا اللہ اور ظفر علی نے رمضان المبارک سے دو چار دن پہلے ہمارے گھر گائوں سردار اللہ ورایو، تحصیل چھٹ، سٹی ڈیرہ مراد جمالی میں گھس کر تمام گھر والوں کو یرغمال بنا کر ہمارے سامنے ہماری بھانجی سویرا کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا۔ بعد ازاں ہم نے تھانہ حدود میر حسن جاکر FIR داخل کروائی لیکن جیسے کہ مقتول با اثر و طاقتور ہوتے ہوئے متعلقہ حد کے SHO کے ساتھ ساز باز کر کے نہ صرف گرفتار ہوسکا الٹا انہوں نے ہمارے اوپر جھوٹی FIR کرڈالی۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ پولیس تو محافظ ہوتی ہے لیکن افسوس ہورہا ہے کہ متعلقہ تھانہ حدود میر حسن کا SHO ان قاتلوں کا سہولت کار بنا ہوا ہے۔ ہمیں جان کا خطرہ اور متعلقہ SHO کی جانب سے ناحق گرفتاری کا بھی اندیشہ ہے۔ انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے۔