حکومت نے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دکھیل دیا ہے، ہارون میمن

29

 

سکھر (نمائندہ جسارت) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے چیئرمین حاجی محمد ہارون میمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا پہلا باقاعدہ بجٹ عوام اور تاجروں کی توقعات کے برعکس ہے آئی ایم ایف کی ایما پر تیار کردہ بجٹ کو قومی اور عوامی نہیں کہا جاسکتا ملک بھر کی تاجر برادری عوام و تاجر دشمن بجٹ کو مکمل مسترد کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاجر سیکرٹریٹ شاہی بازار میں تاجروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر خواجہ جلیل، برکت علی سولنگی، صابر کپتان ، بدر رفیق قریشی، مولانا عثمان فیضی، فیاض خان، لالا عابد ، انور وارثی، سید محمود علی، گلزار بھٹو، عطا محمد قریشی اور دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی محمد ہارون میمن نے کہا کہ حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے مہنگائی کم کرنے کے بجائے مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیا ہے حالیہ بجٹ میں گھی، چینی، خوردنی تیل، آٹا، دالیں ، چاول اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء پر اضافی ٹیکس لگاکر غریب عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجٹ سازی کے دوران تاجر برادری کو اعتماد میں نہیں لیا اور صرف اور صرف آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کی خواہشات کے مطابق بجٹ تیار کرکے عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان نہیں مہنگائی کا سونامی برپا ہوگا۔ حکومت نے بجٹ پیش کرکے قومی معیشت پر خودکش حملہ کیا ہے۔ کاروباری طبقے کو پی ٹی آئی کی حکومت سے جو توقعات تھیں ان پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت ٹیکس گزار تاجروں کے گرد ہی گھیرا تنگ کررہی ہے اور ٹیکس کی شرح میں بے انتہا اضافہ کوکے ہر آنے والے دن کے ساتھ مہنگائی بڑھائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم مراعات یافتہ طبقے کو نوازنے کیلیے لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کیلیے 550ارب روپے کا جو مشکل ہدف دیا گیا ہے ان تمام ٹیکس کا بوجھ غریب عوام کو برداشت کرنا پریگا جس کے نتیجے میں غریب عوام کی معاشی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر بجٹ کو بہت اچھا قرار دیکر دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ مشکل وقت عوام کو برداشت کرنا پڑیگا مگر دوسری جانب حکومتی سطح پر کفایت شعاری کہیںبھی نظر نہیں آرہی۔ حکومت نے حالیہ بجٹ میں اپنی مراعات اور عیش و عشرت کو کم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ روز مرہ استعمال کی اشیاء چینی، اجناس اور دیگر چیزوں کے نرخ بڑھاکر ان پر جو ٹیکس عائد کیے ہیں ان کا کہنا غریب عوام کو ریلیف دینے کی باتیں کررہے ہیں جو کہ سراسر دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ غیر مقبول ہونے کیلیے انتہا ہی کافی ہے کہ ملک بھر کی تاجر برادری اور معاشی ماہرین نے بجٹ کو ناکام قرار دیکر بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں عائد کیے گئے نئے ٹیکس فوری طور پر ختم کیے جائیں اور حکومت قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرے۔