ایک صافی التجا: ایک نوٹیفکیشن کا سوال ہے بابا!

156

میرے حوالے سے سلیم صافی صاحب کا بغض ِ باطن فرو ہونے کو نہیں آرہا، ان کی باطنی کیفیت قرآن کریم کی اس آیت کی عکاس ہے: ’’ان کا بغض ان کی باتوں سے عیاں ہو چکا اور جو (نفرت وکینہ) وہ اپنے سینوں میں چھپائے بیٹھے ہیں، اس سے بہت بڑا ہے، (آل عمران: ۱۱۸)‘‘، چنانچہ وہ کالموں کی سیریز لکھ رہے ہیں اور جواب دینا اور اپنے موقف کا دفا ع کرنا میرا شرعی وقانونی حق ہے۔ انہوں نے جنابِ فوادچودھری کو اپنے پروگرام میں کہا: ’’آپ ان کو برطرف کیوں نہیں کردیتے‘‘، انہوں نے جواب دیا: ’’میرے اختیار میں نہیں ہے‘‘۔ پھر موصوف نے اپنے آخری کالم میں لکھا ’’لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کس سے مطالبہ کررہے تھے، کیا وہ نہیں جانتے کہ کمیٹی کا چیئرمین بدلنے کے لیے ان ہی کی جماعت کے وزیر مذہبی امور کے سیکشن آفیسر کا ایک نوٹیفکیشن درکار ہے‘‘۔ موصوف اپنے آپ کو عقلِ کل اور مختارِ کل سمجھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ سارا نظام حکومت ان کی پسند اور ناپسند پر چلے، نیز یہ کہ وہ ہر شعبہ حیات کے لیے حتمی حجت اور قولِ فیصل ہیں، جس کے آگے کسی کو پر مارنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے: ’’تدبیر کندبندہ، تقدیر زند خندہ‘‘۔ ان کی اناپرستی، باطنی نفسیات اور خودپسندی کے چند شواہد ان کی تحریروں سے پیش کرتا ہوں: گزشتہ حکومت نے جب صوبہ خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ جنابِ سردار مہتاب احمدخان عباسی کو گورنر خیبر پختون خوا بنایا تو موصوف نے لکھا: ’’مہتاب عباسی کو پشتو آتی ہی نہیں اور نواز شریف نے انہیں گورنر خیبر پختون خوا بنا دیا ہے‘‘۔ اس سے عصبیت جھلک رہی تھی اور اس میں یہ پیغام مستور تھا کہ خیبر پختون خوا کے جس شہری کی مادری زبان پشتو نہیں ہے، وہ اپنے صوبے کا گورنر بننے کا اہل نہیں ہے۔ اس طرح تو ہزارہ ڈویژن، پشاور وکوہاٹ (پشاور اور کوہاٹ کے قدیم شہریوں کی مادری زبان بھی ہندکو ہے)، ڈی آئی خان (وہاں کے شہری باشندوںکی زبان سرائیکی ہے)، سوات کے بعض علاقوں میں گجر برادری بستی ہے، سو اب صافی فارمولے کے مطابق ان سب کا صوبے کے آئینی عہدوں پر استحقاق نہیں رہے گا۔ تو ان علاقوں کے رہنے والے اگر الگ صوبے کا مطالبہ کریں تو جواز بنتا ہے یا انہیں یہ آپشن دیا جائے کہ وہ اس صوبے کے ساتھ الحاق کریں جو انہیں قبول کرے۔ پھر جب اسی حکومت نے اصلی اور نسلی پشتون جنابِ اقبال ظفر جھگڑا کو گورنر خیبر پختون خوا بنایا تو صافی صاحب نے لکھا: ’’وہ تو بوڑھے ہیں چل پھر نہیں سکتے‘‘، پھرخالص پشتون بھی نااہل
قرار پائے۔ اسی طرح اسی حکومت نے اصلی اور نسلی پشتون جنابِ سرتاج عزیز کو قبائلی علاقوں کا مستقبل طے کرنے کے لیے کمیشن کا سربراہ بنایا تو صافی صاحب نے لکھا: ’’وہ اگرچہ مردان سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اب وہ ایک عرصے سے لاہور میں رہائش پزیر ہیں‘‘، یعنی پشتون ہونے کے باوجود وہ اس کے اہل نہیں رہے، حالانکہ جنابِ سرتاج عزیز سابق بیوروکریٹ ہیں، اپنی پارٹی میں خزانہ اور خارجی امور کے وزیر یا مشیر رہے، انہوں نے اپنے کام سے کام رکھا، میرے علم میں ان کی ایک بھی تقریر ایسی نہیں ہے جو تہذیب اور اخلاقی اقدار سے گری ہوئی ہو، نہ انہوں نے کبھی مخالف سیاستدانوں کے بارے میں اہانت آمیز کلمہ استعمال کیا، لیکن چونکہ صافی صاحب کی دانش کی رو سے لاہور میں رہنے کی وجہ سے وہ پنجاب زدہ ہوگئے ہیں اس لیے کمیشن کی سربراہی کے لیے ان کا انتخاب نامناسب تھا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ ہر بات میں اپنے آپ کو کس حدتک حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور دوسروں کی اہانت میں ان کے نفس امّارہ کو کتنا سرور ملتا ہے۔
جنگ کے بانی میرخلیل الرحمن مرحوم انتہائی وضع دارآدمی تھے، انہوں نے اپنی محنت سے اس ادارے کو میڈیا اِمپائر بنایا، کبھی بھی انہوں نے کسی مکتب ِ فکرکے علماء کی توہین کو اپنا شعار نہیں بنایا۔ اگر کسی خبر یا کالم میں مذہب ومسلک کے حوالے سے کوئی نامناسب بات شائع ہوجاتی، تو اپنے اخبار کے صفحہ اول پر اعتذار شائع کرتے اور جس فرد یا طبقے کے جذبات مجروح ہوتے، ان کے پاس خودجا کر معذرت کرتے تھے۔ اسی طرح اگر علماء کو ان سے کوئی شکایت ہوتی تو وہ ان سے جاکر ملتے اور جائز شکایت کا ازالہ ہوجاتا، میں خود کئی بار وفد کی صورت میں ان سے ملا۔ اسی طرح ایک بار میں اتحادِ تنظیماتِ مدارِس پاکستان کے ہمراہ جناب میرشکیل الرحمن سے بھی ملا اور انہوں نے بھی اِکرام کا برتائو کیا اور شکایات کا ازالہ کیا، ظاہر ہے ان کی تربیت جناب ِمیرخلیل الرحمن اور ان کی اہلیہ محترمہ نے کی تھی۔ مگر اب جنگ اور جیو میں تیسری نسل آگئی ہے، پالیسی پر لبرل ازم کا غلبہ آگیا ہے اور اب لگتا ہے کہ اہل دین پر چڑھائی کرنے کے لیے انہوں نے صافی صاحب کو پال رکھا ہے، جرگہ پروگرام اور اسی نام سے کالم کے وہی پالیسی ساز ہیں۔ رسول اللہؐ سے سوال ہوا: کیا مسلمان بزد ل ہوسکتا ہے، آپؐ نے فرمایا: ہوسکتا ہے، پھر سوال ہوا: کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے، آپؐ نے فرمایا: ہاں ہوسکتا ہے، پھر سوال ہوا: کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے، آپؐ نے فرمایا: نہیں، (شعب الایمان)۔ اب صافی صاحب کی مجرمانہ جسارت کا عالَم دیکھیے: لکھتے ہیں: ’’یا تو ان میں سے ایک جھوٹا ہے یا دوسرا اور یا دونوں جھوٹے ہیں‘‘، ہم نے کون سا جھوٹ بولاہے، ان کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ کسی پر شواہد کے بغیر جھوٹا ہونے کا فتویٰ صادر کریں۔
جناب میرشکیل الرحمن سے گزارش ہے کہ اپنی ناموس کے بارے میں تو آپ اتنے حسّاس ہیں کہ آپ انگلینڈ کی عدالتوں میں گئے، عدالت عظمیٰ میں گئے، توکیا آپ کی نظر میں علماء کی کوئی عزت ووقار نہیں ہے کہ آپ کے ادارے کی کمین گاہ میں بیٹھ کرکوئی اناپرستی کا مریض علماء پر جھوٹ کے فتوے صادرکرے، صرف اس لیے کہ علماء کے پاس پاکستان اور انگلینڈ کی اعلیٰ عدالتوں میں اپنی ناموس کا دفاع کرنے کے لیے کروڑہا روپے نہیں ہیں، یہ روِش کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے اور یہ صحافتی اقدار کے بھی منافی ہے۔
جس کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے فیصلے پر اعتراض ہو، اس کے پاس استدلال کی دوبنیادیں ہیں: (۱) شرعی اصول (۲) فنی معیارات۔ ہم جواب دیں گے اور عصبیت سے بالاتر متوازن سوچ رکھنے والے کو مطمئن کریں گے، ہم شریعت کے پابند ہیں، کسی متکبر اینکر پرسن یا کالم نگار کی خواہشات کے پابند نہیں ہیں۔ اور بھی لبرل کالم نگار مثلاً جنگ کے ادارتی صفحات پر کبھی کَبھار وجاہت مسعود، یاسر پیرزادہ اور دیگرکالم نگار لکھتے رہتے ہیں، لیکن اختلافِ رائے کو ذاتیات اور شخصی اہانت تک نہیں لے جاتے، اس لیے ہم بھی ان سے تَعَرُّضْ نہیں کرتے، وہ سب مہربان شاد وآباد رہیں، اگر رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے ان کے دوچار کالم نکل آتے ہیں، تو ہمیں ایصالِ ثواب کردیا کریں۔
بعض لبرل عناصر لوٹے بُدھنے، اونچے پائنچے، گھڑیوں کے استعمال، دُخانی ریلوے انجن، لائوڈ اسپیکر، موٹرکار، ہوائی جہاز اور خلائی جہاز تک کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ علماء کی نادانی کو ثابت کیا جاسکے، جن کا استدلال اس سطح کا ہو، اُن سے منہ لگانا وقت ضائع کرنا ہے۔ یہ سارے کرم فرما یہ تاثر دیتے ہیں کہ ساری سائنسی اور فنی ترقی میں رکاوٹ دین اور اہل دین ہیں، میں نے بارہا کہا ہے: اہل دین نے کب آپ کو سائنسی اور فنی ترقی سے روکا ہے کوئی ایک مثال تو پیش کیجیے، سائنسی ترقی کے بارے میں سوال علماء سے نہیں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیوں سے ہونا چاہیے۔ مگر یہ لوگ تاثر دیتے ہیں کہ ہمارا خلائی جہاز روشنی سے دگنی چوگنی رفتار سے چاند کی طرف اڑا جا رہا ہے، آگے کہیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان دیوار چین یا سدِّسکندری بن کر کھڑی ہوجاتی ہے اور یوں سفر موقوف ہوجاتا ہے، ورنہ ہم کب کے چاند تو کیا سار ے سیّاروں اور ثوابت سے آگے نکل جاتے اور جدید سائنسی دنیا حیرت سے ہمیں تکتی رہتی۔ اسی طرح مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان سلیم صافی صاحب کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، یا وہ رہیں گے یا یہ کمیٹی رہے گی اور ظاہر ہے کہ ان کے خیال میں دنیا اور ہر دور کے اہل اقتدار اُن کی زبان اور قلم کی کاٹ سے لرزتے رہتے ہیں اور جان کی امان کی تلاش میں رہتے ہیں، انشاء اللہ خان انشاء نے کہا تھا:
جگر کی آگ بجھے جس سے، جلد وہ شَے لا
لگا کر برف میں ساقی، صراحیِ مے لا
پس صافی صاحب کی جگر کی آگ بجھانے کے لیے جب تک ان کے مَن کی مراد پوری نہیں ہوگی، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اور ہم بھی جواب کے لیے حاضر رہیں گے، البتہ ان کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ ان کے پاس جیو نیوزکے اسٹوڈیوزکا شیشے کا گھر ہے جہاں سے وہ خودمحفوظ رہتے ہوئے ہر ایک پر پتھر پھینک سکتے ہیں،
ہمیں یہ سہولت میسر نہیں ہے، اپنا اپنا مقدر ہے۔ الحمدللہ! مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان میرا معاش نہیں ہے، لیکن اسٹوڈیوز کا آئینہ خانہ اور ادارتی صفحہ آپ کا معاش ہے، دوسروں کی بدخواہی کرنے والا اور حسد کی آگ میں جلنے والا کبھی خود بھی انجامِ بدسے دوچار ہوسکتا ہے۔ ایک صاحب سوشل میڈیا پر فروکش ہیں اور فرما رہے ہیں: ’’مفتی منیب الرحمن کہتے ہیں: میں سائنس کو اپنے جوتے کی نوک پر مارتا ہوں‘‘، اس کا جواب فقط یہ ہے: ’’لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ‘‘۔ ایک طنز عینک کے حوالے سے کیا جاتا ہے، کیا عینک استعمال کرنے والا قضا کا اہل نہیں رہتا، مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کا منصب قضا ہے، اس طرح تو اعلیٰ عدالتوں کے عالی مرتبت جج صاحبان، مُسلح افواج کے سربراہان، وزیرِ اعظم اور صدر پاکستان سب کو نااہل ماننا پڑے گا کیونکہ وہ بھی بعض اوقات عینک استعمال کرتے ہیں، سو رویتِ ہلال پر اعتراضات اس دانش کے شاہکار ہوتے ہیں۔