ہمارا آج اور دلِ مسلم

114

مظہر اقبال

چند روز قبل جسارت میں حافظ محمد ادریس صاحب کا مضمون شائع ہوا۔ مضمون کا عنوان ہے مکہ کا فاتح دلوں کا فاتح۔ حافظ صاحب نے فتح مکہ کے بعد کے احوال کو انتہائی پر اثر انداز میں تحریر کیا تاریخوں اور ناموں کا ذکر کرنے سے گریز کیا اور ان کا مقصودِ اصل فاتح اور مفتوح کے دل کی حالت بیان کرنا ہے۔ اس طرح کے مضامین ہمارے طلبہ و طالبات کو کورس کی شکل میں دینے چاہیں۔ آج بھی ہمارے نصاب میں بچے نام اور تواریخ رٹ رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ ان واقعات کی روح ان تک نہیں پہنچ پاتی۔ راقم کو یقین واثق ہے کہ آج اگر نصاب بنانے والوں کو یہ تجویز دی جائے کہ ایسے مضامین کالج کے طلبہ و طالبات کو پڑھائے جائیں تو فوراً اعتراضات آ جائیں گے کہ نہیں جناب لکھنے والے کا تعلق تو فلاں جماعت سے ہے اور جبکہ نصاب بنانے والوں کا تعلق کسی اور جماعت ہے۔ ہمارے دل بھی تقسیم ہو چکے ہیں جماعتوں میں، گرہوں میں اور ذات پات میں۔ حافظ صاحب محمد عربیؐ کے دل کی حالت بتا رہے ہیں اور آج کے مسلمان کا معاملہ الٹ ہے۔ آج کا مسلمان اس صحرا والے مسلمان سے ہزار گنا زیادہ مال و اسباب کا مالک ہے مگر اس کے دل کی حالت بدل چکی ہے۔ وقت بدلنے لگا۔ گھروں کے صحن بھائیوں میں تقسیم ہونے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحن بعد میں تقسیم ہوتا ہے پہلے دل تقسیم ہوتا ہے۔ یوں گھر تقسیم ہوتے ہیں اور پھر محلے کے محلے دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے دل آپس میں مل نہیں رہے ہوتے۔ بات یہیں تک نہیں، لا الہ اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے تقسیم کی ایک اور لائن کھینچ دیتے ہیں اور اپنے آپ کو ملک کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ پہلے گھروں کے صحنوں میں دیواریں اٹھیں اور پھر اسلامی ملکوں کے بیچ باڑیں لگنی شروع ہو گئیں۔ لوگ اسلامی فلاسفی سے دور ہوتے گئے۔ بڑی مسجدوں کی ہیبت میں پڑ گئے، تو کبھی مقصودِ اصل سیاحت تھا تو عمرے اور حج کے لیے زاد راہ تیار کر لیا۔ دل آج بھی تقسیم ہیں۔ وہ دل کہاں ہیں جو چودہ سو سال پہلے مہاجرین کے لیے بچھ گئے تھے۔ اپنے مہاجر بھائی کو یہ کہنے لگا کہ میری دو بیویاں جو تمہیں پسند ہو بتا دو، میں اس کو طلاق دے دوں گا اور تم اس سے نکاح کر لینا۔ محمد مصطفی ؐ نے جس دل کی ہم سے گارنٹی مانگی تھی ہمارے پاس وہ دل نہیں۔ وہ دل کئی خانوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ کہیں یہ دل خود پسندی کا شکار ہے تو کہیں یہ امیر ہونے پر پھولے نہ سمانے کو تیار ہے۔ قریبی خون رشتوں پر شب خون مار چکا ہے۔ کسی نے نام غلام رسول رکھ لیا تو کیا ہوا، کیا مدینہ کی گلیوں میں اسے بلال حبشی ؓ کی یاد نہ آئی جو محمد ؐ کا دیوانہ تھا۔ مدینہ کی گلیوں میں کیا اسے محمد ؐکا دل نظر نہ آیا جو بڑے سے بڑے کافروں کو بھی معاف کر دیتے تھے۔ سارا معاملہ دل کا ہے۔
جب طارق بن زیاد ساحلِ سمندر پر اپنی ہی کشتیوں کو جلا رہا تھا تو اس کا دل کہہ رہا تھا فتح ہماری ہے۔ آج اتنے زیادہ مال و اسباب ہونے کے باوجود مسلمان کے پاس وہ دل نہیں رہا۔ آج سے ایک سو سال پہلے علامہ اقبال نے مسلمانوں کی اس مردہ دلی پر تحقیق کی تھی اور اپنی تحریر میں جدت لاتے ہوئے اس کا اظہار کیا۔ مسلمانوں کو کچھ نہیں بدلنا صرف دل کی حالت کو بدلنا ہے۔ یہ دلوں کی حالت بدلنے کا نتیجہ تھا کہ بازار اور دکانیں کھلی رہتی تھیں اور مسلمانوں کے سجدے میں آنکھیں خوف خدا سے بھیگی رہتی تھیں۔ مسلمان ریاستوں کے بیت المال بھرے رہتے تھے۔ حتٰی کہ حکم تھا کہ اگر کسی کو نکاح کے لیے مال و اسباب درکار ہو تو بلا جھجھک بیت المال سے رابطہ کرے ایسے واقعات بھی ہوئے کہ اسلامی ریاست نے لوگوں قرض چکتا کر دیے۔ یہ سب کچھ آج بھی ممکن ہے۔ اس کے لیے کسی بڑی سائنس کی ضرورے نہیں۔ ہم مسلمانوں کو اپنے دل کی حالت کو بدلنا ہوگا۔
آخر کیا وجہ ہے پاکستان کو معرض وجود میں آئے ستر سال سے زیادہ ہو گئے ہیں تا ہم مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آسکے۔ وجہ بالکل واضحس ہے وہ دل جو تحریک پاکستان میں شامل تھے ان کی حالت کچھ اور تھی۔ آپ نے بھی اس وقت کی بلیک اینڈ وائٹ تصویریں دیکھی ہوں گی۔ وہ لوگ کسمپرسی کی حالت میں نہیں تھے اور نہ ہی سفر کی تھکان ان کو ستاتی تھی۔ آپ غور کیجیے ان کے چہرے روشن تھے ان کی آنکھوں میں امیدوں کے سمندر تھے ایک عرفانی مسرت تھی۔ جب ملک بن گیا تو ہر کوئی دل سے، پیارو محبت سے اس کو سنوارنے میں لگ گیا۔ اگر ہم آج کے پاکستان پر نظر دوڑائیں تو دلوں کی حالت بدل چکی ہے۔ آج کا پاکستانی اس وقت سے ہزار گنا زیادہ مال و اسباب کا مالک ہے مگر دل کی حالت بد ل چکی ہے۔ دل ذات پات، صوبائیت اور امارت میں تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں۔ ارباب بست و کشاد کا دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہاں اسلامی نظام رائج کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس دل کی حالت آج بھی بدل جائے تو ہر مسجد عدالت بن جائے۔ ہر مسجد مکتب بن جائے۔ صرف چند سال میں قوم کی حالت بدل سکتی ہے۔ اور اللہ کا وعدہ ہے کہ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ ہم دل کی حالت کو بدل کر تو دیکھیں۔