مسئلہ کشمیر، جہاد اور جماعت اسلامی (باب ہشتم)

130

یہ سیکولر عناصر مولانا مودودیؒ کے خلاف اپنی کوششوں میں اندرون خانہ لگے رہے اور کسی خاص موقع کی تاک میں تھے۔ اسی دوران کشمیر کا مسئلہ سامنے آیا۔ کشمیر میں مجاہدین کی کارروائیاں ۱۵؍ اگست۱۹۴۷ء سے جاری تھیں۔ مہاراجہ کشمیر اور ڈوگرہ فوجیوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ ان مظالم کی اطلاعات جب صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں تک پہنچیں تو انھوں نے دینی غیرت اور حمیت کے تقاضے کے مطابق کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں اعلان جہاد کردیا اور جوق درجوق کشمیر پہنچنا شروع ہوگئے۔ حکومت کی جانب سے درپردہ ان مجاہدین کی حمایت کی جارہی تھی مگر برسر عام اس کا اعلان نہیں کیا جارہا تھا۔
مولانا مودودی پر ایک بے بنیاد الزام
مولانا مودودیؒ اپنے مطالبہ’’ نفاذ اسلامی نظام‘‘ کی مہم کے سلسلے میں پشاور کے دورے پر تھے۔ وہاں آزاد کشمیر کی حکومت کے ڈائریکٹر اطلاعات نبی بخش نظامانی نے مولانا سے بہ اصرار تنہائی میں ملاقات کی اور کشمیر میں ہونے والی جہادی کارروائی سے متعلق شرعی نقطہ نظر کے بارے میں استفسار کیا مولانا نے انھیں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات اور معاہدے ہیں جن کے تحت انڈیا کی حدود میں اس طرز کی جارحانہ کارروائیوں کی سرکاری سرپرستی مناسب نہیں ہے اور اس سے حکومت کی اخلاقی پوزیشن خراب ہوگی۔ بہتر ہے کہ حکومت باقاعدہ اعلان جہاد کردے۔ اگلے ہی روز اخبارات میں یہ خبر شائع ہوگئی کہ مولانا مودودیؒ نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ کشمیر میں جہاد حرام ہے اور جو بھی اس میں جان دے وہ حرام موت مارا جائے گا۔
یہ وہی سنہری موقع تھا کہ جس کی تاک میں مسلم لیگ اور مرکزی حکومت میں شامل سیکولر عناصر عرصہ سے تھے۔ ان لوگوں نے مولانا کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا ایک طوفان کھڑا کردیا۔ حکومت کے ایک سرکاری ملازم انفارمیشن آفیسر نبی بخش نظامانی کی گھڑی ہوئی جھوٹی خبر کو ہندوستانی ریڈیو نے بھی نشر کیا۔ مولانا مودودیؒ نے اس سلسلے میں اپنا وضاحتی بیان ریڈیو پاکستان سے نشر کرانے اور اخبارات میں شائع کرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ریڈیو تو خیر سرکاری کنٹرول میں تھا اخبارات کو بھی پریس ایڈوائس کے ذریعے اس ضمن میں مولانا کے وضاحتی بیان کو شائع کرنے سے روک دیاگیا۔
اسی دوران ۷؍ستمبر۱۹۴۸ء کو پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یہ اعتراف کرلیا کہ پاکستان کی فوجیں کشمیر میں ہیں۔ یہ ایک طرح سے حکومت پاکستان کا بھار ت اور مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے خلاف واضح اعلان جنگ تھا ۔مولانا مودودیؒ نے فوری طور پر جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کا اجلاس بلا کر ایک قرار داد کے ذریعے اس بات کا اعلان کیا کہ چونکہ اب حکومت پاکستان نے کشمیر کی جہادی کارروائیوں میں شریک ہونے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے اس لیے اب بھارت کے ساتھ معاہدانہ تعلقات کے باوجود اہل پاکستان کے لیے جہاد کشمیر میں جنگی حصہ لینا بالکل جائز ہے۔ اس طرح اپنی من مانی کارروائی کرنے کے خواہشمند سیکولر عناصر کے راہ سے آخری رکاوٹ بھی دور ہوگئی اور انھیں کھیل کھیلنے کے پورے مواقع میسر آگئے۔ جہاد کشمیر کے ضمن میں مولانا کے تازہ بیان کو حکومت کی جانب سے اخبارات میں شائع ہونے سے روکا گیا نیز جماعت اسلامی کے ترجمان ’’ روزنامہ تسنیم‘‘ اور ’’سہ روزہ کوثر‘‘ کو پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بند کردیا گیا۔ لیکن دوسری جانب مولانا کے خلاف پریس میں حکومت کے سیکولر عناصر کو منفی اور غلیظ پروپیگنڈا کرنے کی پوری آزادی ملی ہوئی تھی۔ مولانا مودودیؒ کا وضاحتی بیان صر ف ماہانہ ترجمان القرآن(ماہ ستمبر ۱۹۴۹) اور روزنامہ تسنیم لاہور میں ۱۲؍اگست ۱۹۴۸ء کو شائع ہوسکا قائداعظم کی رحلت کے بعد چونکہ’’ ان کی جیب کے کھوٹے سکوں‘‘ کو کھلی چھوٹ مل چکی تھی اس لیے ۴؍اکتوبر ۱۹۴۸ء کو مولانا اور ان کے ساتھیوں کو پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے ملتان جیل میں نظر بند کردیاگیا۔
قبل ازیں جب اخبارات میں سرکاری وظیفہ خواروں کی جانب سے مولانا کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈے کا زور تھا مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا مودودیؒ کے درمیان جہاد کشمیر سے متعلق مولانا کی رائے( جسے حکومتی ایجنٹوں نے فتویٰ قرار دیا) پر وضاحت کے سلسلے میں خط و کتابت بھی ہوئی تھی جس میں سید مودودیؒ نے تفصیل کے ساتھ اس ضمن میں شرعی نقطہ نگاہ سے اپنا موقف واضح کیا تھا یہ خطوط معروف ریسرچ اسکالر ڈاکٹر ایچ بی خا ن نے اپنی کتاب ’’ تاریخ جہاد کشمیر‘‘ شائع کردہ الحمد اکیڈمی کراچی ۱۹۹۰ء کے صفحات ۴۰ تا ۴۵ میں نقل کیے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کو ایک نام نہاد اور خود ساختہ ’’جھوٹے فتویٰ‘‘ کی آڑ میں پس دیوار زنداں کردینے کے بعد سیکولر عناصر اور بیوروکریسی کے بعض لوگ مطمئن ہوگئے کہ اس طرح مولانا کے مطالبہ دستور اسلامی سے جان چھوٹ گئی۔ لیاقت علی خان شہید ملت کے قریبی رفقاء جن میں اوپر مذکورہ راجہ غضنفر علی خان کے علاوہ خواجہ شہاب الدین (وزیر اطلاعات) غلام محمد اور سر ظفر اللہ (وزیر خارجہ) ان محلاتی سازشوں میں شریک تھے اور حکومتی سطح پر ایسے آمرانہ اقدامات کے ذریعے حکومت کی نیک نامی خراب کرنے میں مصروف تھے۔ یہ اپنی جگہ اٹل حقیقت ہے کہ لیاقت علی خاں کے دور میں پبلک سیفٹی ایکٹ کا جس طریقے پر اندھا دھند استعمال ہوا اس کی وجہ سے بیورو کریسی کو سیاست میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں مدد ملی۔
(جاری ہے)