چہیتے سرکاری افسران کاقحط،انتظامی بحران شدت اختیارکرگیا

51

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)سندھ سرکار کے پاس چہیتے افسران کا قحط پڑ گیا،افسران کو ایک سے زائد اہم عہدوں سے نوازے جانے سے محکموں میں انتظامی بحران شدت اختیار کرگیا جبکہ محکموں کی کارکردگی صفر ہوکر رہ گئی ہے،محکمہ اوزان وپیمائش میں جاری سنگین بدعنوانیوں کے باوجود کنٹرولر ویٹ مینجمنٹ کے پاس ڈائریکٹر بیورو آف سپلائی کا چارج بھی موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سینئر افسران کی موجودگی کے باوجود جونیئر افسران پر جاری نوازشات پر صورتحال سنگین ہوکر رہ گئی،پیٹرول پمپس ،مرغی فروش،اور اشیا خورونوش میں انتہائی مہارت کے ساتھ ناپ تول میں کمی کی بڑھتی شکایات کے ساتھ ساتھ شہر بھر کے سینکڑوں بچت بازاروں میں جاری لوٹ مار کو کنٹرول کرنے میں محکمہ بری طرح سے ناکام ہوکر رہ گیا ہے،افسران نے تمام تر توجہ اپنی ذاتی ریکوری پر مرکوز کرلی ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے چہیتے افسران کو ایک سے زائد اہم عہدوں سے نوازے جانے سے جہاں محکموں میں انتظامی بحران پیدا ہوکر رہ گیا ہے وہیں محکموں کی کارکردگی بھی صفر ہوگئی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ اوزان وپیمائش جو کہ اہم ترین محکمہ تصور کیا جاتا ہے جس کی غفلت ولاپروائی سے براہ راست عوام متاثر ہورہے ہیں ۔مذکورہ محکمے کی ناقص اور بدترین کارکردگی کے باوجود سندھ حکومت نے محکمے کے کنٹرولر جاوید قائم خانی کو محکمہ بیوروآف سپلائی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے بھی نواز رکھا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بھر میں موجود سینکڑوں پیٹرول پمپس میں سے بیشتر پمپس سے شہریوں کو کم پیٹرول ملنے کی شکایات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف شہر بھر میں ترازو کی جانچ پڑتال کا کام بھی صرف فائلوں تک محدود ہے اور یہ کام صرف افسران کی کمائی کا ذریعہ بنا ہوا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں90فیصد مرغی فروش ناپ تول میں کمی میں ملوث ہیں لیکن ان کیخلاف شہر میں کارروائیوں کے بجائے محکمے کے افسران نے معاملات طے کر رکھے ہیں اسی طرح ناپ تول میں کمی کرنے والے پیٹرول پمپس سے بھی باقاعدہ ماہانہ نذرانہ مقرر ہے جو کہ انتہائی منظم انداز سے وصول کیا جارہا ہے،شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر کے80فیصد پیٹرول پمپس مالکان پیٹرول میں کمی کرکے شہریوں کو فروخت کررہے ہیں اور کروڑوں روپے شہریوں سے لوٹے جارہے ہیں۔