مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر حملہ،7 اہلکار مارے گئے،کئی زخمی،مجاہد شہید

83

سری نگر(خبرایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر حملے کے نتیجے میں 7 اہلکار ہلاک اورمتعددزخمی ہوگئے ۔جھڑپ میں ایک مجاہدبھی شہیدہوا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اننت ناگ میں پیش آیا جہاں بھارتی فوج کے قافلے پر فائرنگ کے بعد دستی بم بھی پھینک گئے۔حملے کی زد میں آکر2 اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ 5 نے اسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا، زخمی اہلکاروں میں سے ایک کی حالت نازک بیان کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حملے میں اننت ناگ تھانے کا ایس ایچ او بھی شدید زخمی ہوا ہے۔حملہ آوروں کی تعداد 2 بتائی گئی ہے جس میں سے ایک کارروائی کے بعد بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔بھارتی پولیس کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئیکہاہے کہ دوسرا حملہ آور زخمی حالت میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا جس کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تاحال کسی جماعت نے واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں پولیس نے علیحدگی پسند مزاحمت کاروںکیخلاف چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور حالیہ واقعہ اسی کا ردعمل ہوسکتا ہے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران سوپور میں ایک اور نوجوان کو شہید کردیا جس سے گزشتہ روز سے شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 44 ہوگئی۔قابض انتظامیہ نے سوپور قصبے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی جبکہ سب ڈویژن سوپور میںتعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں جیلوںمیں غیر قانونی طورپر نظربند آزادی پسند قیادت اور نوجوان کارکنوں کے ساتھ بھارتی جیل حکام کے غیر انسانی اور ظالمانہ رویے کی شدید مذمت کی ہے۔ ادھرانسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالا قانون ’’پبلک سیفٹی ایکٹ‘‘فوری طور پر منسوخ کرنے پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون قابض انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کشمیرمیں احتساب ، شفافیت اور انسانی حقوق کے احترام کو سبوتاژ کرنے کے لیے فوجداری نظام عدل میں رکاوٹ کا سبب ہے ۔ بیان میں کہاگیا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کامتن قیدیوں کے خلاف منصفانہ طورپر مقدمات چلانے کے حق کے احترام سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت بھارت کی متعدد ذمے داریوں کی خلاف ورزی کا باعث ہے۔ ایمنسٹنی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ قیدیوں کی نظربندی کے متعدد سرکاری اور قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد انتظامیہ کی طرف سے بچوں کو نظربند کرنے ،مبہم اور عمومی وجوہات کی بنا پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیے جانے ، ایکٹ کے تحت محدود حفاظتی سہولتوں کو نظرانداز کرنے ، لوگوں کو بار بار نظربند کرنا اور ضمانت پر رہائی روکنے کے لیے پی ایس اے کو استعمال کرنے اور فوجداری نظام عدل کو سبوتاژ کرنے سمیت انسانی حقوق کی پامالیوںکے منظم طریقہ کارکا پتا چلا ہے ۔