قائد حزب اختلاف نے الیکشن کمیشن ارکان کیلیے 6نام وزیر اعظم کو ارسال کردیے

55

اسلام آباد(اے پی پی)مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے ارکان کی نامزدگی پر براہ راست ملاقات اور رازداری پر مبنی بامعنی گفتگو کو آئینی تقاضا قرار دیا ہے۔ ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب کے مطابق وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں الیکشن کمیشن کی سندھ اور بلوچستان سے نشستوں کے لیے 6 نام بھی بھجوائے ہیں۔ سندھ سے سابق صدر سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن خالد جاوید، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس (ر) عبدالرسول میمن اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس (ر) نور الحق قریشی کے نام شامل ہیں جبکہ بلوچستان سے سابق ایڈووکیٹ جنرل صلاح الدین مینگل، محمد رئوف عطاء اور سینئر ایڈووکیٹ شاہ محمود جتوئی کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہمارے نامزد کردہ ایک فرد کا نام 11 مارچ 2019ء کو وزیر خارجہ کی طرف سے پہلے بھجوائے گئے خط میں بھی موجود ہے جبکہ اب آپ کے خط میں اسی نامزد کردہ شخصیت کو نااہل قراردیا گیا ہے، وزیراعظم کے نامزد کردہ افراد پر بھی اسی نوعیت کے الزام لگائے جاسکتے ہیں لیکن ہم کسی کی پگڑی اچھالنے پر یقین نہیں رکھتے ، دستور اور عدالت عظمیٰ کی ہدایات کی روشنی میں براہ راست گفتگو کے ذریعے سنجیدہ، بامقصد اور مخلصانہ کوشش سے ہر فرد کی اہلیت جانچی جائے،آپ کے 6 مئی 2019ء کے خط سے مایوسی ہوئی ہے،7 اپریل کے خط میں میرے پیش کردہ معروضات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔