ـ70 کھرب 36 ارب کے بجٹ میں35.6 کھرب کا خسارہ ،ضروریا ت زندگی کی اشیاء مہنگی

157
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی حکومت نے 70کھرب 36 ارب روپے کابجٹ پیش کردیا جس میں تقریباً 50 فیصد یعنی 35.6کھرب روپے خسارہ ظاہرکیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے دعوے ٹھس ثابت ہوئے ،بجٹ میں غریب عوام پر11 کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔چینی، خشک دودھ،کوکنگ آئل، دالیں ،مشروبات ، سگریٹ، سی این جی ، ایل این جی، گاڑیوں اورسیمنٹ سمیت ضروریات زندگی کیبیشتراشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ درآمدی پولٹری مصنوعات، بکرے، بیف اور مچھلی کے گوشت ، خوردنی تیل اورگھی پر17فیصد ٹیکس عاید ہوگا۔چینی پرسیلز ٹیکس 8سے بڑھا کر13فیصد کردیا گیا،قیمت میں ساڑھے3روپے فی کلواضافہ ہوجائے گا۔ سونے ، چاندی اور ہیرے کے زیورات پر بھی سیلزٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے بجٹ اجلاس میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے مالی سال 20-2019 ء کا بجٹ پیش کیا ۔اس دوران اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور بجٹ کومستردکردیا۔وزیر مملکت نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار کے ٹیکس شرح میں اضافہ ہوگا۔تنخواہ دار ملازمین کے لیے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے قابل ٹیکس آمدنی کی حد کم کرکے 4لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ 4لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ آبی وسائل کے لیے70 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192 ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے 2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور آئندہ سال کے دوران سبسڈی کے لیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 44.8ارب روپے گندم اور چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختص کیے گئے ۔وزیرمملکت نے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گریڈ 17 تک کے ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، گریڈ17سے20 تک کے ملازمین کے لیے 5فیصد اضافہ کیاگیا ہے جب کہ وفاقی کابینہ کے وزرانے اپنی تنخواہوں میں 10فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔کاغذ کی پیداوار کے لیے خام مال کوکسٹم ڈیوٹی سے استثنا، ادویات کی پیداوارکے خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے استثنا دینے کی تجویز دی گئی ہے، اسی طرح ریسٹورنٹ اوربیکری کے لیے چیزوں میں سیلزٹیکس 17 سے کم کرکے 7.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو نے بتایا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت سول بجٹ 460 ارب سے کم کر کے 437 ارب روپے کیا گیا ہے جو کہ 5 فیصد بنتا ہے جب کہ فوجی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا۔صحت پروگرام کے لیے 12ارب روپے جب کہ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 13ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوںنے بتایا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب تک کے سستے قرض دیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مراعات دے رہے ہیں جب کہ بجلی اور گیس کے لیے 40 ارب روپے کی سبسڈی، برآمدی شعبے کے لیے 40 ارب روپے کا پیکیج، لانگ ٹرم ٹریڈ فنانسنگ کی سہولت برقرار رکھی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ سستے گھروں کی تعمیر کے پروگرام کے لیے لاہور، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں زمین لے لی گئی ہے جس کے لیے سرمایہ کاری کے انتظامات کر رہے ہیں، یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، اس سے معیشت کا پہیہ چلے گا۔حماد اظہر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پنڈی اور اسلام آباد کے 25 اور بلوچستان میں ایک لاکھ 10 ہزار ہائوسنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زرعی ٹیوب ویل پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ پر بجلی فراہم کی جائے گی۔ان کا کہناتھاکہ ایل این جی سے چلنے والے 2گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے 2 ارب ڈالر جمع ہوں گے۔وزیر مملکت نے بتایا کہ ٹیکس وصولیوں کا کل حجم 58 کھرب 22 ارب 20 کروڑ روپے رکھا گیا ہے جب کہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف 55 کھرب 50 ارب روپے رکھا گیا ہے۔متفرق ٹیکسز کا ہدف 26 کھرب 7 ارب 20 کروڑ روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 89 ارب 4 کروڑ 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی وصولیوں کا ہدف 18 کھرب 28 ارب 80 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ اجلاس میں شدید ہنگامہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا گھیرائو کر لیا‘ اسپیکر ڈائس پر احتجاج کیا ‘بجٹ دستاویزات پھاڑ کر پھینک دیں‘ گو نیازی گو‘مک گیا تیرا شو نیازی ‘ گو نیازی گو نیازی‘ گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘ عمران کی باجی چور ہے کے نعرے لگائے گئے۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں آئی ایم ایف حکومت، تحریک انصاف، مالیاتی اداروں کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے‘ حکومتی ارکان نے وزیراعظم کی نشست کے قریب حصار باندھ لیا‘ وزیراعظم نے جاتے ہوئے اپوزیشن کو مسکراتے ہوئے دیکھا اور دونوںہاتھ لہرائے اور اپوزیشن کو ان کے احتجاج سے محظوظ ہونے کا تاثر دیا۔ اپوزیشن کے ارکان بازوئوں پر سیاہ پاٹیاں باندھ کر ایوان میں داخل ہوئے ‘ اپوزیشن ارکان نے وزیراعظم عمران خان پر بجٹ دستاویزات اور ایجنڈا پھاڑ کر اچھال دیا ۔ اس دوران وزیر مملکت برائے خزانہ کی بجٹ تقریر دب کر رہ گئی۔ وزیراعظم عمران خان اپنی نشست پر خاموشی سے بیٹھے رہے ‘ شفقت محمود اور پرویز خٹک بجٹ تقریر طویل ہونے پر بار بار وزیر مملکت حماد اظہر کو اسے جلد مکمل کرنے کے لیے کہتے رہے‘ حکومتی ارکان وزیر مملکت برائے خزانہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ڈیسک بجاتے رہے‘ مسلم لیگ ق کے ارکان خاموشی سے اپنی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ یہی صورتحال ایم کیو ایم کی بینچوں کی تھی۔