دارالحکومت کی بدترین حالت ہے،اسلام آباد کو پشاور تک پہنچادیا گیا،عدالت عظمیٰ

49

اسلام آباد ( آن لائن+اے پی پی ) عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس گلزار احمد نے تجاوزات سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ سی ڈی اے نے پورے شہر کی شکل ہی بدل دی ہے،اسلام آباد کو پشاور تک پہنچا دیا ہے ،کچھ روز میںلاہور تک پہنچا دیں گے،وفاقی دارالحکومت کو کمرشل بنا دیا گیا ہے، لگتا ہے سی ڈی اے کو 1960 ء کے ماسٹر پلان کا پتا ہی نہیں،نہ سڑکیں ہیں نہ ٹرانسپورٹ نہ بجلی نہ پانی پورے دارالحکومت کی بدترین حالت ہے، روڈ کے درمیان جنگل بس بنا کر اربوں روپے کا نقصان کردیا گیا لوگ پیدل چل کر سفر کرنے پر مجبور ہیں نہ انڈر پاس بریج ہے اور نہ ہی کوئی انڈر پاس ٹرین‘ ناقص سامان کے استعمال کے باعث تمام مرنے والوں کا ذمے دار این ایچ اے ہے، 5برس سے کوئی کام نہیں ہورہا ہے، افسران صرف دفتروں میں بیٹھ کر کرپشن کرتے ہیں، سرکاری زمینوں پر لوگوں نے قبضے کیے ہوئے ہیں ماسوائے ایک دوسرے پر الزامات کے افسران کچھ بھی نہیں کررہے، ضروری ہوگیا کہ اپارٹمنٹ والا کلچر ختم کرکے گھر بنائے جائیں۔ کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ عدلات نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کی تجاوزات ختم کرنے سمیت صفاء گولڈ مال والے پلاٹ پر منظور شدہ اسپتال کو از سر نو تعمیر کرنے‘ سینٹورس سے پارکنگ کے نام پر پلاٹ پر کیے گئے قبضے کو خالی کرانے سمیت پورے وفاقی دارالحکومت کو سرسبز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے چیئرمین این ایچ اے اور چیئرمین سی ڈی اے کو ایک ماہ میں تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی ہے۔