احتساب عدالت،آصف زرداری 21 جون تک ریمانڈ پر نیب کے حوالے

75

اسلام آباد (آن لائن) احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد ارشد ملک نے میگا منی لانڈرنگ و جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کو 21 جون تک ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منسوخی کے بعد گرفتار آصف زرداری کوگزشتہ روز سخت سیکورٹی میں عدالت لایا گیا جہاں نیب حکام نے14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کیا ہے‘ تفتیش کے لیے ریمانڈ کی ضرورت ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آصف زرداری کو کن بنیادوں پر گرفتار کیا ہے‘ پہلے یہ بتائیں‘ اس موقع پرنیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر نے تفصیلات پر مبنی دستاویزات پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں گرفتاری کی بنیاد پڑھ کر بتا دیتا ہوں‘دستاویزات میں بتایا گیا کہ سابق صدر آصف زرداری منی لانڈرنگ میں ملوث رہے‘ اومنی گروپ کے سربراہ اے جی غنی منی لانڈرنگ میں آصف زرداری کے لیے فرنٹ مین کا کردار ادا کرتے رہے‘ ان کے ساتھ سمٹ بینک کے سابق صدر حسین لوائی بھی شامل رہے‘ ان اکائونٹس کے ذریعے4.4 بلین روپے کی جعلی ٹرانزکشن ہوئی‘ ان میں سے عبداللہ حسین لوتھا کے ذریعے2.8 بلین روپے کے سمٹ بینک کے شیئرز خریدے گئے۔ زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی جس میں زرداری کے بچوں کے بھی20 فیصد شیئرز ہیں‘ ان اکائونٹس سے ملین روپوں کی جعلی ٹرانزکشن ہوئی ہے۔ اے جی مجید کی ریجنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو حسین لوائی نے بطور صدر سمٹ بینک بھاری رقم ان اکائونٹس میں ریلز کی‘ بینک حکام کی معاونت سے جعلی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ نیب کی طرف سے آصف زرداری کے میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گرفتاری کے بعد زرداری کا طبی معائنہ کرایا‘ آصف زرداری مکمل صحت مند اور فٹ ہیں‘ انہیں کوئی ایسی خطرناک بیماری نہیں ہے جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو۔اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں26 ملزمان ہیں، صرف آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا‘ آصف زرداری کو گرفتار کر کے امتیازی سلوک کیا گیا‘ یہ ریفرنس عدالت میں زیر سماعت ہے‘ تفتیش کا مرحلہ نہیں‘ استدعا ہے کہ عدالت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کا حکم دے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین نیب کو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا خصوصی اختیار ہے‘ عدالت کوبھیجے گئے مقدمات میں بھی چیئرمین نیب وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتے ہیں‘ اسی کیس میں 8 ملزمان گرفتار ہیں‘ تفتیشی افسرنے طے کرنا ہوتا ہے کہ کس ملزم کو گرفتار کرنا ہے۔ وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے آصف زرداری کو21 جون تک کے ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کرنے اور دوران ریمانڈ اہل خانہ سے ایک بار ملاقات کی اجازت دینے کا حکم سنا دیا۔