مقبوضہ کشمیر قابض فوج نے مزید 2 نوجوانوں کو شہید کردیا

29

سری نگر(اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں منگل کو ضلع شوپیاں میں مزید 2کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق نوجوانوں کو بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، پیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس اور پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے ضلع کے علاقے آونیرہ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران شہید کیا۔ شہیدنوجوانوں کی شناخت شاکر احمد اورسیار احمد کے طورپر ہوئی ہے جوشوپیاں اور کولگام اضلاع کے علاقوں آونیرہ اورموچھو سے تعلق رکھتے تھے۔ فوجیوں نے آپریشن کے دوران 2مکانات بھی تباہ کردیے۔دریں اثناء شہیدنوجوانوں شاکر اور سیار کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ہزاروں لوگوں نے ان کے آبائی علاقوں کا رخ کیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد کے سبب آو نیرہ اور موچھو میں شہیدنوجوانوں کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی۔ قابض انتظامیہ نے دونوں اضلاع میں تمام انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں۔ تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے سری نگر سے جاری ایک بیان میں شوپیاں کے شہداء کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ شہداء کی مقدس قربانیوں کی حفاظت کرنا ہرکشمیری کافرض ہے۔ علاوہ ازیںہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے سری نگر میں ایک اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں گزشتہ برس جموں کے ضلع کٹھوعہ میں ہندو فرقہ پرستوں کے ہاتھوں 8سالہ مسلمان بچی آصفہ کے اغوا،اجتماعی عصمت دری اور قتل میں ملوث مجرموں کو پٹھانکوٹ کی عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزا پر عدم اطمینان کا اظہارکیاہے۔ بارایسوسی ایشن نے کہاکہ اس گھنائونے جرم کے ارتکاب پر3 مجرم کم سے کم سزائے موت کے مستحق ہیں جبکہ عدالت نے کوئی وجہ بتائے بغیر ان کو عمرقید کی کم سزا دی ہے۔متاثرہ بچی کی والدہ نے ایک انٹرویو میں فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مجرموں کو سزائے موت دے کرہی انصاف کے تقاضے پورے ہوںگے۔دوسری جانب تحریک حریت جموںو کشمیر کے رہنما محمد رفیق اویسی کی قیادت میں ایک وفدنے شہید طفیل احمد متو کے یوم شہادت پرمزار شہداء عیدگاہ سری نگر پر منعقدہ تعزیتی مجلس میں شرکت کی ۔بشیر احمد قریشی اورسید ظہور الحق گیلانی پر مشتمل ایک اوروفد نے شہید موصوف کے گھر جاکر ان کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔17سالہ طفیل احمد متو2010ء میںآج ہی کے روز ٹیوشن سینٹرسے گھرواپس آتے ہوئے بھارتی پولیس کی طرف سے فائر کیاجانے والاآنسو گیس کا گولا لگنے سے شہید ہوگیا تھا ۔اس کی شہادت پر 2010ء میں مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی تھی۔