الطاف حسین کی گرفتاری ‘ ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم لندن جائیگی

73

کراچی ( رپورٹ، محمد انور ) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کیا گیاہے ،گرفتاری کے بعد وفاقی حکومت نے ہنگامی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مزید معاونت کے لیے ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم کو لندن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹیم ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مظہر کاکاخیل کی نگرانی میں آج یا کل لندن کے لیے روانہ ہوگی۔ ٹیم لندن پہنچ کر لندن پولیس کو الطاف حسین کے خلاف مزید چند اہم دستاویزات بھی دے گی جس سے ملزم کو ضمانت حاصل کرنے میں مشکل ہوجائے گی۔ جبکہ ان دستاویزات کی روشنی میں الطاف حسین کے خلاف مزید کوئی نیا مقدمہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ ایف آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جو مزید شواہد پولیس کو پاکستانی ایجنسی کی جانب سے دیے جائیں گے ان میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل اور لوگوں کو گمراہ کرکے دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مجبور کرنے کے حوالے سے بھی کئی اہم چیزیں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے برطانیہ کی شہریت کا غلط استعمال کیا اور برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو بھی خراب کر کے بھارت کو فائدہ پہنچانے کی مبینہ کوشش کرتا رہا جس کی وجہ سے وہ برطانوی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ذرائع نے واضح کردیا ہے کہ فی الحال الطاف حسین کو واپس پاکستان لانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جبکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ مقدمات کے فیصلے تک اس ضمن میں انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتی۔ خیال رہے کہ الطاف حسین کی منگل کو لندن میں گرفتاری کے بعد میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پاکستان میں کی گئی تقاریر سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ60 سال سے زائد عمر کے شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007ء کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ انہیں پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر جنوبی لندن کے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا، جہاں ان سے پولیس حراست میں تفتیش جاری ہے۔