ایران نے یورینیم افزودگی تیز کر دی‘ عالمی توانائی ایجنسی

66
ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا اجلاس ہورہا ہے‘ سیکرٹری جنرل یوکیا امانو پریس کانفرنس کررہے ہیں
ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا اجلاس ہورہا ہے‘ سیکرٹری جنرل یوکیا امانو پریس کانفرنس کررہے ہیں

ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے یورینیم افزودہ کرنے کی مقدار بڑھا دی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس پیر کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہوا۔ اس موقع پر آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنائو کی وجہ سے پہلے ہی کشیدگی کی فضا پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کیا ہے، لیکن وہ ابھی اس سطح پر نہیں پہنچا جس سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ لیکن اس سوال پر کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی میں کتنا اضافہ کیا ہے، ایجنسی کے سربراہ نے جواب دینے سے گریز کیا۔ دوسری جانب امریکا نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران یا تو ایک عام ملک کی طرح رویہ اختیار کرے یا پھر اپنی معیشت کو تباہ ہوتا دیکھتا رہے۔ جواد ظریف نے منگل کے روز جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کے ساتھ ملاقات میں امریکا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ پابندیوں کے ذریعے ایران پر اقتصادی جنگ تھوپ رہا ہے اور یہ کہ اس جنگ کے حامی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ہائیکو ماس ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش میں ہیں۔ ادھر جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبے کی دورہ ایران پر روانگی سے قبل مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات چیت کی۔ آبے نے ٹیلی فون پر گفتگو میں ٹرمپ کو بتایا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کے دوران کشیدگی کم کرنے پر زور دیں۔ جاپانی کابینہ کے چیف سیکرٹری یوشی ہیدے سوگا نے منگل کے روز باضابطہ اعلان کیا تھا کہ آبے بدھ سے جمعہ تک ایران کا دورہ کریں گے۔ جاپانی وزیر اعظم ایرانی صدر حسن روحانی اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔سوگا نے کہا کہ خطے میں سخت کشیدگی کے پیش نظر جاپان سربراہی سطح کی بات چیت کے ذریعے علاقائی طاقت ایران پر تناؤ کم کرنے کے لیے زور دے گا۔ خیال رہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے گزشتہ سال الگ ہو گئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں کئی خامیاں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کا استثنا بھی ختم کر دیا تھا جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔