اسرائیلی فائرنگ سے زخمی فلسطینی امدادی کارکن شہید‘ 20گرفتار

59
اریحا (فلسطین): صہیونی انتظامیہ مسلمانوں کے مکان مسمار کررہی ہے‘ اسرائیلی فوجی مزاحمت کرنے والوں کو روک رہے ہیں
اریحا (فلسطین): صہیونی انتظامیہ مسلمانوں کے مکان مسمار کررہی ہے‘ اسرائیلی فوجی مزاحمت کرنے والوں کو روک رہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) غزہ کی سرحد پر اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران قابض فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک امدادی کارکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق 36 سالہ محمد صبحی جدیلی طبی عملے کا سینئر رکن تھا۔ ایک ماہ قبل اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد پر جمع ہونے والے مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں الجدیلی بھی زخمی ہو گیا۔ فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ جدیلی کو علاج کے لیے غرب اردن کے شہر الخلیل کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں منگل کے روز وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ محمد جدیلی کو انسانیت کی خدمت کے عمل کے دوران صہیونی فوج نے گولیاں ماریں۔ ایک گولی اس کے سر میں پیوست ہوگئی تھی۔ خیال رہے کہ 30 مارچ 2018ء سے غزہ کی سرحد پر فلسطینی شہری حق واپسی اور غزہ پر مسلط کی گئی ناکابندی کے خاتمے کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ حق واپسی مارچ کے عنوان سے جاری اس تحریک کے دوران اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد اور اندھا دھند فائرنگ سے اب تک 294 فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ 2018ء کے بعد اب تک غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے طبی عملے کے 5 ارکان شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں ایک22 سالہ نوجوان نرس رزان النجار بھی شامل ہیں، جنہیں غزہ کی سرحد پر ایک خیمے میں زخمیوں کی مرہم پٹی کے دوران گولیاں مارکر شہید کیا گیا۔ رزان النجار کے قتل نے عالمی میڈیا میں توجہ حاصل کی تھی، تاہم اسرائیلی ریاست نے فلسطینی مظاہرین کے حوالے سے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے دریائے اردن کے مغربی کنارے اورمقبوضہ بیت المقدس میں گھر گھرتلاشی کی کارروائیوں میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے رہنما سمیت کم سے کم 20 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ قابض صہیونی فوج نے فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر لوٹ مار، توڑپھوڑ اور خواتین اوربچوں کو ہراساں کیا۔اسرائیلی فوج نے بھی ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔