فرانس میں مساجد اور یہودی عبادت گاہوں کو خطرہ

51

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس میں نیو نازی انتہا پسندوں کا ایک ایسا زیر زمین گروہ پکڑا گیا، جس نے مبینہ طور پر مسلمانوں اور یہود کی عبادت گاہوں پر حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اب تک اس نیو نازی گروہ کے 5 ارکان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق ملکی عدلیہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ گرفتار شدگان دائیں بازو کے ایسے مشتبہ انتہا پسند ہیں، جو اپنی سوچ میں نئی نازی تحریک اور اس کے نظریات کے بہت قریب ہیں۔ اس بارے میں اب تک کی تفتیش اور اس کے نتائج سے واقف عدالتی ذرائع نے بتایا کہ اس انتہا پسند گروہ نے مسلمانوں کی مساجد اور یہود کی عبادت گاہوں پر حملوں کے منصوبے بنا رکھے تھے، تاہم یہ نئے نازی اپنے منصوبوں کی تیاری میں ابھی بہت آگے تک نہیں گئے تھے کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان مشتبہ ملزمان کو گزشتہ برس ستمبر سے لے رواں سال مئی تک کے عرصے میں حراست میں لیا گیا اور ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق ان ملزمان کی گرفتاری کئی ماہ تک کی جانے والی خفیہ تفتیش کا نتیجہ تھی اور ان انتہا پسندوں نے فرانس میں کئی اہم اہداف پر حملوں کے منصوبے بنا رکھے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ نئے نازی شدت پسند مسلم اور یہودی تنظیموں کی جن تقریبات یا ان مذاہب کی پیروکاروں کی جن عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، ان میں فرانس میں یہودی تنظیموں کی نمایندہ کونسل کی طرف سے اہتمام کردہ سالانہ عشائیہ بھی شامل تھا اور مقامی مسلمانوں کی کئی مساجد بھی۔ فرانسیسی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جن 5 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، ان میں رضا کارانہ بنیادوں پر فرائض انجام دینے والا پولیس کا ایک نائب کانسٹیبل اور 15 سالہ نوجوان بھی شامل ہیں۔