نب کا حکومت یا اپوزیشن سے لینا دینا نہیں ، کالے کرتوت پر کارروائی ہو رہی ہے، فردوس عاشق

60

 

اسلام آباد(اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نیب کا حکومت یا اپوزیشن سے لینا دینا نہیں،نیب صرف ان کے خلاف کیس بناتا ہے جن کے کالے کرتوت ہوں،جو سیاہ کاریوں اورکرپشن میں ملوث ہوں، نیب کا کیس بنانے کا ایک طریقہ کار ہے، صرف اسی کے خلاف کارروائی ہوتی ہے جس کے خلاف کوئی شکایت ہو۔پی ٹی وی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جہاں تک حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کا تعلق ہے میں پاکستان کے عوام کو مبارکباد دینا چاہتی ہوں کہ قانون اور عدالتیں آزاد ہیں،پاکستان میں قانون
کی حکمرانی ہے ،طاقت ور کا قانون کے شکنجے میں آنا، طاقت ور اور کمزور کے لیے قانون کی الگ الگ تشریح سے آگے نکل کر عمران خان کے 2 نہیں ایک پاکستان کے تصور اور بیانیے کی جیت ہے،ہم صرف کمزور پر قانون کا اطلاق 75برس سے دیکھ رہے تھے ،طاقت ور اس قانون کی گرفت سے آزاد تھا مگر اس گرفتاری نے یہ ثابت کیا ہے کہ اب ادارے آزاد اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ طاقت ور بھی اس قانون کی زد میں آئے ہیں جنہوں نے ہمیشہ قانون کو اپنے تابع رکھا۔علا وہ ازیں منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 70سال سے طاقتور لوگوں نے ملک کو یرغمال بنا رکھا تھا اور قوانین کی تشریح بھی مرضی سے کی جاتی رہی،آئین کی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کا سفر آگے بڑھتا رہے گا،ماضی میں حکومتوں نے قانون کی اپنی مرضی کی تشریح کی،ملک میں یکساں قانون وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے،2بڑی شخصیات کا قانون کے تابع آنا مثبت پیشرفت ہے،کوئی ٹولہ جمہوریت کا راگ الاپ کر غیر قانونی اثاثوں کو تحفظ نہیں دے سکے گا،آئندہ مالی سال 2019-20 ء کا بجٹ امیر اور غریب کے درمیان توازن اور کفایت شعاری کے اقدامات سے جوڑا گیا ہے،بجٹ عوام دوست پالیسیوں کا عکاس ہے،وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ملک میں قانون کی تشریح الگ الگ نہیں ہو گی،آج حکومت نے قانون پر عملداری سے عوام کے دل جیتے ہیں،طاقتور شخصیات کو قانون کے تابع لانا اور عدلیہ کی آزادی عمران خان کا خواب تھا، ملک میں قانون کی بالادستی ہو گی،ہم توقع رکھتے ہیں کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا سفر اسی طرح آگے بڑھتا رہے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولا نا فضل الرحمن اپنی نگاہیں اسلام آباد کے بجائے اسلام پر رکھیں،مولانا فضل الرحمن کی سوچ اسلام آباد تک نہیں عالم اسلام تک ہونی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ثابت کیا کہ انہوں نے عوام کے لیے ہمیشہ قربانی دی ہے،ملکی سول اداروں میں اصلاحات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے لوگوں کے چہروں سے نقاب اتار ا،اسحاق ڈار ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وعدوں کی تکمیل کی طرف آج پہلا قدم ہے،ملک کے اندر بدعنوانی میں ملوث افراد ،جماعتوں ، تنظیموں اور ٹولوں کو قانون کے تابع کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ریلیف دینے اور مشکلات سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں ،صنعت کاروں اور وسائل یافتہ طبقے کو معاشی روڈ میپ میں حصہ دار بنایا گیا ہے تا کہ ماضی میں ملک میں پائے جانیوالے عدم توازن کو بہترکیا جائے اور بجٹ میں امیر اور غریب کے درمیان توازن کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کو تمام تر کفایت شعاری اقدامات سے جوڑا گیا ہے،بجٹ عوام کا حکومت کے ساتھ رشتہ مضبوط کرے گا،بجٹ عوام دوست پالیسیوں کی حمایت کریگا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ عوامی مفاد کے لیے جدوجہد کرنیوالوں کیساتھ کھڑاہو نہ کہ ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ کھڑاہو ،توقع ہے میڈیاعوام کی مشکلات کے تدارک کے لیے حکومت کی حمایت کریگا،پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا ۔حکومت بجٹ کے حوالے سے مثبت تجاویز پر عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل طے کرے گی۔
فردوس عاشق اعوان