سپریم کورٹ بار نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کردیا، بار کے صدر کا موقف ذاتی ہے، سیکرٹری

42

 

لاہور (نمائندہ جسارت)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل عظمت اللہ چودھری نے بار کے بعض دیگر عہدیداروں کے ساتھ صدر بار امان اللہ کنرانی کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا، صدر سپریم کورٹ بار کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے بارے میںموقف ان کی ذاتی رائے سے زیادہ کچھ نہیں، آئین ایسے ریفرنس کی اجازت دیتا ہے اور آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے ضروری
ہے۔لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل عظمت اللہ چودھری،نائب صدر پنجاب ملک کرامت اعوان،سمیعہ فیض درانی ایگزیکٹو ممبر سندھ،یوسف مغل ایگزیکٹو ممبر کے پی کے،لیاقت علی ترین ایگزیکٹو ممبر بلوچستان،محمد جاوید چودھری ممبر ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب،رانا غلام سرور ممبر ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب و دیگر نے کہا ہے کہ امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے بارے میںپریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن کے کسی نمائندے کو اعتماد میں نہیں لیا ،سپریم کورٹ بار اس بات پر متفق ہے کہ احتساب کے عمل سے پوری قوم ، بیوروکریسی، سیاست دانوں سمیت پاک فوج بھی گزر رہی ہے ،اس لیے احتساب کا روکا جانا مناسب نہیں ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، ان کا ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیا گیا ہے جوکہ پاکستان کے سینئر ججز پر مشتمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص ریفرنس کے بارے میں اعتراض تو اٹھا سکتا ہے لیکن جو فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے اس کے بارے میں کوئی نہ رائے دے سکتا ہے اور نہ ہی پیشگی واویلا مچا سکتاہے ۔سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں نے کہا کہ بار نے ریفرنس پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی نے پریس کانفرنس اور ٹی وی شوز میں جو زبان استعمال کی ہے ان کو ایسا کرنے کا اختیار نہ تھا ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں کیونکہ وہ توہین آمیز ہے اور جس ہڑتال کی کال صدر بار نے دی ہے اس کا تعلق سپریم کورٹ بار سے قطعاً نہیں ہے ہم اس کی بھی مذ مت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل 13 جون کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کریں گے جس میں بار کے اکثریتی ارکان شامل ہوں گے۔
سپریم کورٹ بار