تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے پرجرمانہ اورسرچارج لگے گا‘ ایف بی آر حکام

17

اسلام آباد(آئی این پی) ایف بی آر کے ممبران ڈاکٹر حامد اور دیگر نے کہاہے کہ نان فائلرز کو خودبخود ٹیکس کٹوتی کیلیے آمدن بنا کر جرمانہ وصول کیا جائے گا، نان فائلرز کے لیے دسواں شیڈول متعارف کرایا گیا ہے ، براڈن فیلڈ کمپنیوںکی ٹیکس رعایت 2020تک فراہم کی گئی ہے ، کم از کم ٹرن اوور ٹیکس 12فیصد سے بڑھا کر1.5فیصد کر دیا گیا ہے۔ منگل کو ڈاکٹر حامد سمیت دیگر ایف بی آر کے ممبران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نان فائلرز کو خودبخود ٹیکس کٹوتی کیلیے آمدن بنا کر جرمانہ وصول کیا جائے گا،
نان فائلرز کے لیے دسواں شیڈول متعارف کرایا گیا ہے ، براڈن فیلڈ کمینیوں کی ٹیکس رعایت 2020تک فراہم کی گئی ہے ، کم از کم ٹرن اوور ٹیکس 12فیصد سے بڑھا کر1.5فیصد کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں 512 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں جبکہ بجٹ میں170 ارب روپے کی ایکسائز ڈیوٹیز لگائی گئی ہیں اور30 ارب روپے کی کسٹمر ڈیوٹیز لگائی گئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں1200 ارب روپے کا سیلز ٹیکس لگایا گیا ہے، نئے انکم ٹیکس بانڈز جاری کیے جائیں گے ، تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں پر جرمانہ اور سرچارج لگایا جائے گا ، تنخواہ دار طبقے پر ایک ہزار اور بغیر تنخواہ دار پر 3 ہزار سرچارج لگایا گیا ہے ، کمپنیوں پر20ہزار روپے کا سرچارج لگایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے نان فائلرز پرگاڑی ، جائیدا خریدنے کی پابندی ختم کر دی ہے ، گریجویشن کو ملازمت دینے والوں کو ٹیکس ری فنڈ ز دیے جائیں گے، بغیر رشتہ دار گفٹ کو انکم تصور کیا جائے گا،257 ارب روپے کے گفٹس پچھلے سال دیے گئے ہیں ، ہم نے کم ازکم ٹرن اوور ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر1.5کر دیا ہے۔
ایف بی آر