مالی سال 2019کی معا شی تر قی کے اہداف نہ حاصل کرنے پر تشو یش

51

کراچی(کامرس رپورٹر ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹری کے قائم مقام صدرنو ر احمد خان نے مالی سال 2019کی معا شی تر قی کے اہداف نہ حاصل کرنے پر تشو یش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6.2 فیصد ہد ف کے مقا بلے میں 3.3 فیصد مو جو دہ شر عی نمو اور بڑھے پیمانے پر موجود مینو فیکچرنگ صنعتو ں میں منفی اضافے کی شر ح معیشت کی انتہا ئی افسردہ کارکر دگی کا ثبو ت ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل، کھانے، مشروبات اور تمبا کو، تیل کی مصنوعات، دواسازی،کمیکل،غیر دھاتی مصنوعات، آٹومو با ئل، لو ہے اوراسٹیل کی صنعتو ں میں۔ نو ر احمد خان نے مضبو ط انڈ سٹر یل پا لیسی کی ضروت پر زور دیا جو کہ پاکستان میں بنیا دی زراعت پر مبنی انڈسٹریز کی حوصلہ افزائی کر ے جو معیشت کا ایک حقیقی شعبہ ہے اور غر بت کے خاتمے اور روزگار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی شعبے پر مبنی نئی صنعتو ں کے لیے بہت بڑ ی صلا حیت مو جو د ہے جسکو مراعات دے کر حوصلہ افزائی کر نے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ذراعت کی اشیا پر بہت کم ٹیرف ہے جس سے ذراعت کی مصنوعات کی درآمد کو فروغ مل رہا ہے جبکہ ہما رے خطے کے ممالک جیسے چین، ایران، انڈیا، سری لنکا وغیر ہ میں ذراعت کی اشیا ء￿ پر زیادہ ٹیرف کی شر ح ہے جو اپنی مقامی پیداوار کی خفا ظت کر تے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ٹیکسٹائل کی صنعت پاکستانی معیشت کی ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن کپا س کی پیداوار میں کمی آئی ہے جو اس وقت 9ملینbales ہے جبکہ 2015میں 14ملینbales تھی۔ انہوں نے کہاکہ کپا س کی پیداوار میں کمی اگلے سال ٹیکسٹائل کی برآمدات کو متا ثر کر ے گی،انہوں نے تجو یز دی کہ حکومت ذرعی شعبے کی پیداور میں اضا فے کے لیے انقلا بی اقدامات لے ذراعت کے علاوہ تکنیکی تر قی، انفرا اسٹر کچر، انڈسٹریل زونز کی بنیادکی بہتری اور دو سرے اقدامات کے ذریعے دیگر بنیا دی صنعتو ں جیسا کہ فارماسو ٹیکل کی مصنوعات، کیمیکل اور لیدر کے فروغ کی ضرورت ہے۔