زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ پر ڈیوٹیز کے نفاذ سے برآمدات30فیصد کم ہو گی،جاوید بلوانی

32

کراچی(اسٹاف رپورٹڑ) پانچ زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشنز نے ملک کے وسیع تر مفاد ایکسپورٹ سیکٹر کو سہولت دی جانی تھی لیکن ایسا نہیں ہو ۔زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ پر ڈیوٹیز کے نفاذ سے برآمدات30فیصد کم ہو گی پانچ زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشنز نے ملک کے وسیع تر مفاد اور ایکسپورٹس میں اضافے کی خاطر ایکسپورٹ سیکٹر کو سہولت دی جانی تھی لیکن ایسا نہیں ہو ۔ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو ٹیکسٹائل پالیسی پیش کی تھی موجودہ بجٹ اس کے برعکس ہیایکسپورٹرز حکومت کے ایس آر او 1125کی منسوخی کی تجویز کو مسترد کرتے ہیںپانچ ایکسپورٹ سیکٹرز کے لئے زیرو ریٹینگ کے خاتمہ کی وجہ سے ایکسپورٹس میں ہر سال 30 فیصد کمی ہوگیپانچ ایکسپورٹ سیکٹرز کے لئے زیرو ریٹینگ کا خاتمہ تباہ کن اثرات لائے گاایکسپورٹرز کی لیکویڈٹیز پھنس جائیں گی، صنعتی پیداوار شدید متاثر ہوگی گارمنٹس کی تیاری سے شپمنٹس تک 4ماہ کا عرصہ لگتا ہے اور سال میں 3ایکسپورٹ سائیکل بنتے ہیں، ایکسپورٹرز کی سالانہ 54 فیصد تک لکویڈیٹی پھنس جائے گی۔ جاوید بلوانیاسطرح ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگی کا دورانیہ 8ماہ سے بھی بڑھ جائے گازیرو ریٹیڈاسکیم کا خاتمہ ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لئے مسائل اور بربادی کا باعث بنے گاسرمایہ بیرون ملک منتقل ہو گا، بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہوگی اور کثیر زرمبادلہ کا نقصان ہوگاآئی ایم ایف کی شرائط پر ایکسپورٹ سیکٹرز کے لئے زیرو ریٹنگ کا خاتمہ ایکسپورٹ انڈسٹری کی تباہی کا اقدام ہے ایکسپورٹرز کے اربوں روپے کے کلیمز پہلے ہی حکومتوں نے تاحال ادا نہیں کئے، نئے ریفنڈز کیسے ادا ہوں گے؟اسمال اور میڈیم ایکسپورٹ انڈسٹریز زیروریٹنگ کے خاتمہ اور سیلز ٹیکس کے نفاذ سے بند ہو جائیں گی بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، ایکسپورٹس میں کمی ہوگی، سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوگا اور وسیع پیمانہ پر انارکی پھیلے گی اور امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہوگی ایکسپورٹرز کے 200بلین روپے سے زائد کے سیلز ٹیکس ریفنڈز، کسٹمز ریبیٹ، ودہولڈنگ ٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک آن لوکل ٹیکسس لیویز اور ڈی ڈی ٹی کے کلیمز کی حکومتی عدم ادائیگی کی وجہ سے ایکسپورٹر ز پہلے ہی شدید مالی دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں، مزید مالی دباو کے متحمل نہیں ہو سکتے پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جس کے فیصلے بھی پاکستان نے ہی کرنے ہیںجو ملک اور عوام کے مفاد میں ہونے چاہیئے۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے ساتھ گزشتہ کئی روز سے ہونے والے مزاکرات بے نتیجہ اور لاحاصل رہے۔ متعلقہ حکومتی حلقہ اپنی ضد پر قائم ہے اور زیرو ریٹیڈ سیکٹر کے مطالبے کو ماننے پر سنجید ہ نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ سیکٹر نے حکومت کی نئی ٹیکس ریجیم جس میں زیرو ریٹنگ کو ختم کرنے کو تجویز زیر غور ہے کو ماننے سے اصولی طور پر یکسر انکار کر دیا ہے اگر حکومت ایسا کرے گی تو وہ یکطرفہ فیصلہ ہو گا جس کی تمام تر ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہو گی۔واضح رہے کہ ایکسپورٹرز کے اربوں روپے کے کلیمز پہلے ہی حکومتوں نے تاحال ادا نہیں کئے اور حکومتیں اپنے وعدوں سے منحرف ہو گئیں اسلئے زیرو ریٹیڈ اسکیم کو جاری رکھنے کے لئے ایکسپورٹ سیکٹر اپنی اصولی موقف پر قائم ہے۔زیروریٹنگ کے خاتمہ کی صورت میںبے ایمان ایف بی آر اہلکاروں کی ملی بھگت سے کرپشن میں اضافہ ہو گا، انڈر اور اوور انوائسنگ بڑھے گی، ریفنڈز میں فراڈ وغیرہ ہوں گے۔ایکسپورٹرز کے 200بلین روپے سے زائد کے سیلز ٹیکس ریفنڈز، کسٹمز ریبیٹ، ودہولڈنگ ٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک آن لوکل ٹیکسس لیویز اور ڈی ڈی ٹی کے کلیمز کی حکومتی عدم ادائیگی کی وجہ سے ایکسپورٹر ز پہلے ہی شدید مالی دبائو اور مشکلات کا شکار ہیں۔لہٰذا زیرو ریٹیڈ کے خاتمہ سے ایکسپورٹ کی گروتھ متاثر ہونے کے باعث ایکسپورٹ کم ہو جائے گی۔انھوں نے ایکسپورٹرز کے لئے فائنل ٹیکس ریجیم کے خاتمہ کی تجویز پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز، پاکستان اپیرئل فورم ، پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن،پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈایکسپورٹرز ایسوسی ایشن،پاکستان کاٹن فیشن اپیرئل مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان بیڈوئیر ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان نٹ ویئر اینڈ سوئیٹر ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان،پاکستان کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن، پاکستان ڈینم مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن،پاکستان ٹیکسٹائل سائزینگ انڈسٹری ایسوسی ایشن،آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن،پاکستان ویوینگ ملز ایسوسی ایشن، آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن، کونسل آف لوم اوونرز ایسوسی ایشن، سرجیکل انسٹرومنٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان، پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پاکستان ٹینرزایسوسی ایشن، پاکستان اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور پاکستان کارپیٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین و نمائندگان اور ایکسپورٹ انڈسٹریز کے ورکرز نے ایک بڑی تعداد میں پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ اور پرامن احتجاج کیااوروزیر اعظم پاکستان عمران خان کوملک کے مفاد میں اور ایکسپورٹ بڑھانے کی خاطرپانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کے لئے اسکیم جاری رکھنے کی اپیل کی ہے ۔پانچ زیروریٹیڈ سیکٹرز پہلے ہی مکمل طور پر ڈاکومینٹیڈ ہیں اور ملک کی مجموعی ایکسپورٹ میں اس کا 70فیصد حصہ اورملکی سطح پر مجموعی طور پر روزگار فراہم کرنے میں50فیصد حصہ ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس کے ریفینڈ2ماہ کے اندر ادا کر دے گی جو حکومتی کی کم علمی اور عدم واقفیت پر مبنی ہے۔یارن سے گارمنٹس کی تیاری میں تقریباً 6ماہ کا عرصہ لگتا ہے ایکسپورٹ اور ریوینیو بڑھانے کیلئے پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹر کے لئے نو کلیکشن اور نو ریفنڈtried and testedفارمولا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں حکومت نے زیروریٹیڈ کو دو مرتبہ ختم کرنا چاہا جس میں ناکامی ہوئی اور زیرو ریٹیڈ اسکیم کو دوبارہ متعارف کروانا پڑا۔زیرو ریٹیڈ اسکیم میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت اس لاحاصل مشق میں پہلے سیلز ٹیکس جمع کرنے اور پھر ریفنڈ کرنے کے بجائے اپنی توانائیاں ایکٹو ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے میں لگائے۔ ایف بی آر کے مطابق سال 2017میں ایکٹو ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 1.13ملین تھی جو ملک کی کل آبادی کا صرف 0.51فیصد ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ سیلز ٹیکس کی شکل میں حکومت کا غیر سودی رقم جمع کرنے کا ارادہ ایکسپورٹ کودائو پر لگا دے گا۔کیا ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال میں ہم پانچ زیرو ریٹیڈ سیکڑکے خاتمہ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟اگر پانچ زیرو ریٹیڈ سیکڑ اسکیم کا خاتمہ کیا گیاتو پہلے سال ہی 30فیصد ایکسپورٹ کم ہو جائے گی۔