سائوتھ ایشیا ء سے چینی درآمدات 15 سے 22ارب ڈالر ہوگئی ہے

33

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستانی تا جر برا دری چین کوایک اچھا دوست اور پاکستان کی اقتصادی تر قی میں ساتھی سمجھتی ہے ۔ پاکستان کے مختلف منصو بو ں میں چینی انٹر پرائز کی شر اکت چا ہے وہ فنی طو ر سے ہو یا ما لیا تی طو ر پر ہو پاکستان سے با ہمی مفا دات ، مضبو ط روابط اور خلوص پر مبنی با ہمی تعلقا ت کی عکاسی ہے ان خیالا ت کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹری کے صدرانجینئر دارو خان اچکز ئی نے 14ویں چائنہ سائوتھ ایشیا ء بزنس فورم اور دوسری چا ئنہ سائوتھ ایشیا کاپوریشن فورم کے موقع پر کیا ہے ۔ یہ فورم چین کی وزارت خارجہ اور چین کو نسل برا ئے بین الاقوامی تجا رت فروغ یو نان کو نسل نے کنمنگ چین میں منعقد کیا۔ انہو ں نے کہاکہ چین سائوتھ ایشیا ء بز نس فورم کی ابتداء 2006 میں CCPITاور جنو بی ایشیاممالک کی ٹریڈ با ڈیز کے درمیان مشتر کہ منصوبے کے طور پر ہو ئی ۔ یہ فورم پہلے تجا رت کے لیے قا ئم ہو ا جواب چین اورجنو بی ایشیا ئی ممالک کی انٹر پرائز ز کے در میان اقتصادی اتحاد کو فرا غ دے رہا ہے۔ اس فورم کی آغاز میں سے سائوتھ ایشیاء چین کی برآمد ات 35ارب ڈا لر تھی جو بڑھ کر 118ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں ،جبکہ سائوتھ ایشیا ء سے چین کی درآمدات 15بلین ڈالر سے بڑھ کر 22بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ چین کی جنو بی ایشیاء میں سر مایہ کاری زیادہ تجا رت ضروری ہے با نسبت کے کیونکہ سر مایہ کاری معیشت کے مختلف شعبو ں پر مثبت اثر ات مرتب ہو تی ہے ۔ سر مایہ کاری سے ٹیکنالو جی کی منتقلی ، اقتصادی تر قی اور روزگار کے مواقعو ں میں اضا فہ ہو تا ہے ، جبکہ تجا رت سے جنو بی ایشیاء کو چین کی کم لا گت اشیاء تک آسان رسائی حاصل ہو تی ہے ۔
انہوں نے مزید کہاکہ جنو بی ایشیا ء میں چین کے ساتھ معاشی روابط استوار کر نے کے بہت سے ممکنامواقع مو جو د ہیں ۔ چین سائو تھ ایشیا بز نس فورم جنوبی ایشیا ء کے ممالک کے لیے معا شی و تجا رتی طو ر پر با ہمی تعاون کے فرو غ اور اپنی اشیاء کی ما رکیٹنگ کے لیے بہت اہم موقع فراہم کر تا ہے کیو نکہ اس فورم میں مجمو عی طو ر پر 74ممالک سے تقر یباً4,000 کمپنیز شر کت رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان غیر ملکی سر مایہ کاری کے لیے ایک بہتر ین ما رکیٹ ہے جہاں غیر ملکی سر مایہ کارپاکستان کی کا روباری پا لیسیز سے فا ئد ہ اٹھا سکتے ہیں ۔ CPECمنصوبے سے جڑے صنعتی مراکز میں تمام ممالک سر مایہ کاری کر سکتے ہیں جس کے مقا بلے کی سطح بڑ ھے گی اور تمام ممالک کو موقع فراہم کر تی ہے۔