اسٹاک مارکیٹ میں11ماہ میں تجارتی ویلیو 7ارب 20 کروڑ روپے ر۔ہی

37

کراچی( بزنس رپورٹر)اقتصادی سروے میں اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال کے حوالے سے سال 19-2018 کی کارکردگی کو شامل کرنے کے بجائے یکم جنوری 2016 سے انڈیکس کو شامل کیا گیا ہے جو 33،229 سے 16 فیصد اضافے کے بعد 31 مارچ تک 38،649 پوائنٹس ہوا۔ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 17-2016 میں انڈیکس میں تیزی آئی اور 24 مئی 2017 پر 52،876.46 پوائنٹس پر پہنچا تاہم وہ مستحکم نہیں رہ سکا اور مالی سال 18-2017 کے درمیان انڈیکس میں مجموعی طور پر تسلسل کا رجحان رہا۔سروے میں کہا گیا کہ مالی سال 19-2018 کے آغاز پر مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا اور 30 جولائی 2018 کو انڈیکس 43،557 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا جس کے بعد انڈیکس میں کمی کا رجحان رہا اور 16 اکتوبر 2018 تک 36،663 پوائنٹس تک پہنچا۔اقتصادی سروے میں کہا گیا کہ مارکیٹ کے رجحان کو نئی حکومت کی پالیسیوں کے مطابق کیے جانے والے ریگولیٹری اقدامات اور ایکسچینج ریٹ معیشت میں غیر متوازن صورتحال کی تصیح سے جوڑا جاسکتا ہے خاص طور پر معیشت میں خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اس سے جوڑا جاسکتا ہے۔جنوری میں پیش کیے گیے منی بجٹ میں متعارف کی گئی کاروبار دووست پالیسیوں کی وجہ سے انڈیکس میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا، تاہم 26 فروری کو بھارت کی جانب سے پاکستان میں دراندازی اور سرحد پر جاری کشیدگی کی وجہ سے مارکیٹ میں اعتماد میں کمی آئی اور 31 مارچ کو انڈیکس 38،649 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹیلائزیشن 7،868.6 ارب روپے تھا۔رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں مجموعی طور پر یومیہ تجارتی ویلیو 7ارب 20 کروڑ روپے رہی اور مجموعی یومیہ ٹرن اوور 17 کروڑ حصص تھے۔