سرگودھا‘ پولیس کے تشدد سے نوجوان کی موت ‘لواحقین کا احتجاج

20

سرگودھا(این این آئی)سرگودھا پولیس نے گرفتار مسیح نوجوان کارپوریشن ملازم و رکشا ڈرائیور کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کی موت ہو گئی۔ لواحقین نے نعش ڈی ایچ کیو اسپتال کے گرائونڈ سے ملنے پر پولیس کے خلاف زبردست نعرے بازی کرتے ہوئے نعش سڑک پر رکھ کر سرگودھا خوشاب روڈ کئی گھنٹے بلاک کیے رکھا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔حکام نے مظاہرین کے احتجاج پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ذرائع کے مطابق شہریوں کی طرف سے پولیس کو اطلاع دی گئی کہ ڈی ایچ کیو اسپتال کے لان میں نامعلوم شخص کی نعش پڑی ہے جس پر پولیس نفری نے موقع پرپہنچ کر نعش قبضہ میں لیا تو انکشاف ہوا کہ نوجوان صفدر مسیح کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا جس کی اطلاع پر لواحقین نے موقع پر پہنچ کر بتایا کہ پولیس تھانہ فیکٹری ایریا نے گزشتہ روز نوجوان صفدر مسیح کو رکشا سمیت گرفتار کیا جس کا رکشا ابھی تک تھانہ فیکٹری ایریا پولیس تحویل میں ہے ۔لواحقین نے الزام عائد کیا کہ نوجوان کو تھانہ فیکٹری ایریا پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کی موت ہو گئی۔ انہوں نے نعش سڑک پر رکھ کر سرگودھا خوشاب روڈ بلاک کرتے ہوئے پولیس کیخلاف زبردست نعرے بازی کی۔ اس احتجاج کے باعث سرگودھا خوشاب روڈ کئی گھنٹے کے لیے بلاک رہی اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔اس موقع پر مظاہرین نے حکام سے نوجوان کو گرفتار کر کے تشدد سے قتل میں ملوث اہلکاروں کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔تاہم پولیس افسران نے معاملہ کی مکمل تحقیقات کر کے کارروائی کی یقین دہانی کروائی دی۔ جن کے احتجاج ختم کرنے پر پولیس حکام نے معاملہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا جن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اہلکار ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔