اراضی کی کمپیوٹرائزیشن سے لوگوں کی جائدادوں کو محفوظ بنایا جا رہاہے

23

سرگودھا(این این آئی )صوبائی وزیر مال پنجاب محمد انور نے دورہ سرگودھا میں کہا ہے کہ اراضی کی کمپیوٹرائزیشن سے لوگوں کی جائدادوں او رزمینوں کو محفوظ بنایا جا رہاہے۔ جس کے پہلے فیز میں 115 لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔جن میں وقت کے ساتھ اضافہ کیا جائیگا اور ان میں اصلاحات اورجدت لائی جائیگی۔ انہوں نے دورہ سرگودھا میں لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سینٹر شاہ پور کا معائنہ کرتے ہوئے لینڈ ریکارڈ سینٹر کے افسران او رعملہ کو ہدایت کی کہ وراثت کے انتقال کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائیاور سینٹر پر آنے والے مردو خواتین سائلین سے ادب واحترام او رخوش اخلاقی سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان او روزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اراضی کی کمپیوٹرائزیشن کے سسٹم کو سراہتے ہوئے اس میں جدت لانے کیلیے اقدامات کی ہدایت کر رکھی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ اراضی کی کمپیوٹرائزیشن سے عوام کو پٹواریوں سے نجات مل جائے گی۔انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اراضی کی سو فیصد کمپیوٹرائزیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو پٹواریوں کے نرغے سے محفوظ بنایا جاسکے۔ انہوں نے شاہپور سینٹر کی توسیع کے مطا لبہ پر مزید کاؤنٹر قائم کرنے کا یقین دلایا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر شاہپور محمد عمران نے صوبائی وزیر کو سرکاری واجبات کی وصولی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔انچارج اراضی ریکارڈ سینٹر قیصر محمود میکن نے بتایا کہ جولائی 2018ء سے اب تک سینٹر میں 2299 انتقالات پاس کیے گئے جبکہ 7573 فرد جاری کی گئیں۔ جن سے 13لاکھ 69 ہزار روپے کی فیس حاصل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ صرف گذشتہ ماہ کے دوران 197 انتقالات سے بیس لاکھ ستر ہزار 487 روپے فیس وصول کی گئی جبکہ ماہ مئی کے دوران چھ سو فردوں کے اجراسے ایک لاکھ 16 ہزارروپے کی وصولی ہوئی۔انہوں نے سینٹر کے مسائل سے اگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سینٹر کا ہال بہت تنگ ہے اور مزید کاؤنٹر درکار ہیں۔انہوں نے سینٹر کے عملہ او رافسران کو ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق مستقل کرنے کی ا ستدعا کی۔ صوبائی وزیر سابق چیئرمین ضلع کونسل عاصم شیر میکن کے ماموں کی وفات پر گاؤں کوٹ پہلوان گئے جہاں انہوں نے مرحوم کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا ۔