25 آر او پلانٹس جلد فعال کردیے جائیں گے، فریدالدین مصطفیٰ

39

 

کوٹری (نمائندہ جسارت)منچھر جھیل کی بحالی اورماہی گیروں کو سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کیلیے سیکرٹری فشریز سندھ کا ڈپٹی کمشنر جامشورو کے ہمراہ منچھر جھیل کا دورہ۔عالمی بینک کے تعاون سے منچھر جھیل میں40لاکھ مچھلی کی افزائش نسل کی جارہی ہے۔ سیکرٹری فشریز سندھ اعجاز احمد مہیسر۔ماہی گیروں کی مالی معاونت اور سہولیات کی فراہمی کیلیے مختلف تجاویززیر غور ہیں۔ڈی سی جامشورو فرید الدین مصطفی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خصوصی احکامات پر صوبائی سیکرٹری فشریز سندھ اعجاز احمد مہیسرنے ڈپٹی کمشنر جامشورو کپٹن(ر)فرید الدین مصطفی اور ڈائریکٹر جنرل فشریز میر اللہ داد تالپورسمیت دیگر افسران کے ہمراہ منچھر جھیل کا دورہ کرتے ہوئے مقامی ماہی گیروں سے ملاقات کی اوران کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا ۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری فشریز سندھ اعجاز احمد مہیسر کا کہنا تھا کہ دورہ کا مقصد منچھر جھیل میں مچھلی کی افزئش نسل میں اضافہ اورآر او پلانٹس کو فعال کرنے سمیت ماہی گیروں کو درپیش مسائل سے چٹکارا دلانا ہے ۔ منچھر جھیل میں محکمہ فشریز اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے توسط سے 40 لاکھ سے زائد مچھلی کی افزئش نسل کی جارہی ہے جس کیلیے مچھلی کے بیج مختلف مقامات پر ڈال دیے گئے ہیں جس کی افزئش نسل میں 6 سے 8 مہینے درکار ہوںگے اور اس دوران مچھلی پکڑنے پر مکمل پابندی ہوتی ہے۔انہوں نے ماہی گیروں سے کہا کہ وہ اس دوران چھوٹی مچھلی نہ پکڑیں تاکہ وہ بڑی ہوکر ان کی معاشی ضروریات پوری کرسکے۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو کپٹن(ر) فرید الدین مصطفی نے بتایا کہ 48 آر او پلانٹس میں سے رواںماہ 25 آر او پلانٹس فعال کردیے جائیں گے جن کی بحالی کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ جامشورو کام کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور واٹر کمیشن سندھ کے احکامات پر آر او پلانٹس کو پہلے بھی فعال کیا گیا تھا تاہم بعض تیکنیکی خرابیوں کے سبب وہ غیرفعال ہوگئے تھے۔ڈپٹی کمشنر جامشورو نے کہا کہ منچھر جھیل سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کومالی پریشانی کا بھی سامنا ہے جس کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر جلد کام شروع کیا جائے گاتاکہ ماہی گیروں کے روزگار کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل بھی حل کیے جاسکیں ۔فریدالدین مصطفی نے مزید کہا کہ منچھر جھیل پر سیاحت کے فروغ کے لیے بھی منصبوبہ بندی کی جارہی ہے جس سے ماہی گیروں کے ساتھ مقامی لوگوں کو روزگار مہیسر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دورے کی سفارشات پر مبنی تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی تاکہ ماہی گیروں کے مسائل کے حل کیلیے موثراقدامات عمل میں لائے جاسکیں۔