بھارت کا ’’حمید گل‘‘ اور پاکستان

208

بھارت میں نریندر مودی اور پاکستان میں دہشت گردوں کی ساتھ ساتھ واپسی میں حیرت انگیز مطابقت ہے۔ بھارت اس وقت پاکستان کے خلاف اجیت دوول ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے۔ اجیت دوول کو بھارت کا ’’جنرل حمید گل‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح جنرل حمید گل مغفور ومرحوم بھارت کے بارے میں تاریخ، تجربے اور مشاہدے سے کشید کیا ہوا نقطہ ٔ نظر اور ڈاکٹرائن رکھتے اور اسے سیاسی اور فوجی اعتبار سے اپنانے پر اصرار کرتے تھے بالکل اسی طرح اجیت دوول پاکستان کے بارے میں ہند و مسلم تہذیبی کشمکش اور تاریخی رزم آرائیوں سے کشید کردہ ایک مخصوص، متعصبانہ اور نفرت انگیز ’’پاکستان اور مسلم ویو‘‘ رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنرل حمید گل ایک بے اختیار فرد تھے جن کا سامع پاکستان کا ایک عام شہری اور نوجوان ہوا کرتا تھا اور اکثر اپنے معاشرے کے لبرلز کے ہاتھوں طنز واستہزا کا نشانہ بنتے تو کبھی کسی تحریک میں لاٹھیاں کھاتے سڑکوں پر رُلتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے جبکہ اجیت دوول صرف ایک نظریہ ہی نہیں رکھتے بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانے کا مکمل اختیار اور وسائل بھی انہیں حاصل ہیں۔ وہ پاکستان میں قومیتوں، علاقوں اور ثقافتوں کے تضادات کو گہرا کرنے اور بتدریج اس خیمے میں سر داخل کرنے اور آخر کار اسے سر پر اُٹھا کر پاکستان پر حتمی وار کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کا ثبوت ان کی یوٹیوب پر دستیاب وہ تقریر ہے جس میں وہ پاکستان میں ناراض عناصر کو وسائل فراہم کرنے اور انہیں باقاعدہ عسکری قوت بنا کر ریاست سے لڑانے کی حکمت عملی بیان کر رہے ہیں۔ اس تقریر میں ان کی رگ رگ سے پاکستان دشمنی اور نفرت ٹپک رہی ہے۔ اس فکر وفلسفے کے حامل شخصیت انعام کے طور پر نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ ان کا دفتر نریندر مودی کے بغلی کمرے میں ہے اور یوں وہ ان کی مشاورت اور خیالات سے ہمہ وقت مستفید ہوتے ہیں۔
اجیت دوول سات آٹھ برس تک ایک بھکاری کے روپ میں لاہور کی سڑکوں پر جاسوسی کا تجربہ رکھتے ہیں۔ نریندر مودی دوسری بار وزیر اعظم بنے تو دیکھا یہ جا رہا تھا کہ وہ قومی سلامتی کے مشیر کے اہم ترین منصب پر کس ذہنی سوچ وساخت کے حامل شخص کو فائز کریں گے۔ انہوں نے دوسری بار بھی اس اہم ترین ذمے داری کے لیے اجیت دوول کو نامزد کرکے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے لیے ان کے پاس اچھالنے کو کوئی شاخ ِ زیتون نہیں۔ بھارت بدستور ’’اجیت دووال ڈاکٹرائن‘‘ پر عمل پیرا رہے گا۔ اس دوران میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کا دھماکا اور اس کے نتیجے میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی شہادت بھارت کے مستقبل کے عزائم کا پتا دے رہا ہے۔ بارودی سرنگ کے اس دھماکے میں پاک فوج کے ایک کرنل سمیت تین افسر اور ایک جوان شہید ہوا۔ دوسرے روز اسی علاقے میں پاک فوج کے دو اور افسر شہید ہوئے۔ حالیہ چند دنوں میں شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں کو تواتر کے ساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے یہ وہی علاقہ ہے جہاں چنددن قبل پی ٹی ایم اور سیکورٹی فورسز میں خونیں تصادم ہوا تھا۔ پی ٹی ایم کا کچھ غصہ جائز اور فطری ہے۔ ایک مقامی شخص جب کسی باہر کے شخص کے ہاتھوں اپنے ہی گھر اور علاقے میں بار بار تلاشی کے عمل سے گزرتا ہے تو کبیدہ خاطر ہونا فطری ہوتا ہے۔ اس کا مجھے ذاتی تجربہ یوں ہے کہ میرا گھر ایک خواتین بازار کے قریب ہے جہاں رمضان المبارک میں خواتین کی بہت بھیڑ ہوتی ہے اور اسی لیے رمضان کے آخری عشرے میں عید قریب آتے ہی بازار کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس ناکے لگاتی ہے اور صرف انہی لوگوں کو گاڑیاں آگے لے جانے کی اجازت ہوتی ہے جن کے گھر وہاں ہوتے ہیں۔ ایک آدھ بار سے زیادہ پولیس کی چیکنگ اور پوچھ گچھ دماغ میں عجیب سا غصہ بھر دیتی ہے حالانکہ پولیس مقامی لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایسے میں شمالی وزیر ستان کے ان لوگوں کے دکھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنہیں اپنے گائو ں جانے کے لیے کوہستان، میانوالی، مانسہرہ، جہلم، ساہیوال کے کسی جوان کے ہاتھوں بار بار جامہ تلاشی اور شناخت پریڈ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ عمل خود عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ضروری ہے ایک شخص کا دماغ گھمانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
کسی بھی معاشرے میں فوج کی غیر معمولی اور طویل عرصے تک متحرک اور بیرکوں سے باہر رہنے سے یہ مسائل پیدا ہونا فطری ہیں اور شاید اسی لیے صاحبان نظر بہت پہلے اصرار کر رہے تھے کہ یا تو آپریشن سے بچ کر قبائلی علاقوں کے مسئلے کی کوئی راہ تلاش کی جائے یا پھر فوج سریع الحرکت آپریشن کرکے واپس لوٹ جائے۔ اس وقت فوجی آپریشن پر اصرار کرنے والے غیر ملکی آج اس آپریشن کے ضرر رساں اثرات سے فائدہ سمیٹنے میں پیش پیش ہیں۔ مسئلے کی اس نوعیت کی جائز جہتوں کے باوجود جس طرح پاک افغان سرحد پر لگنے والی باڑھ اور فوجی چوکیوں کو ختم کرنے کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے اس کا منطقی نتیجہ اس حساس ترین علاقے
میں کامیاب آپریشن اور قربانیوں سے حاصل کیے جانے ولے امن اور قائم کیے گئے سیکورٹی کے نظام کو ختم یا کمزور کرنا تھا۔ ایک مستقل جنگ زدہ اور سرخ دائرے کا شکار علاقے میں دفاع اور امن کے نظام کو کمزور کرنے کا مطلب دہشت گردوں کی بالواسطہ مدد ہی تھا۔ ظاہر ہے جہاں سیکورٹی کا نظام ڈھیلا ہوگا دہشت گردوں کو وہاں سے اندر داخل ہو کر راہ بنانے کا موقع ملے گا۔ فوجی اور سلامتی کے امور میں کھلی مداخلت مخالف ایجنسیوں اور اداروں کا کام آسان بنانے کے مترادف ہوتا ہے۔ فوج اور قبائلی عوام نے اپنے لہو، بے گھری اور سکون کی قیمت پر جو امن حاصل کیا ہے ملک اسے خراب کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ڈیورنڈ لائن کے اس پار امریکا، ناٹو، اسرائیل اور بھارت بیٹھے ہیں اور سب کا ہدف مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان ہے۔ امریکا پاکستان پر طالبان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا غصہ اُتار رہا ہے تو اسرائیل کو تسلیم نہ کیے جانے اور فلسطینیوں کے ہاتھوں زچ ہونے کا دکھ ہے۔ بھارت کے دکھ اور غم تو لادوا اور لامحدود ہیں جو قیام پاکستان سے بھی پرانی تاریخ رکھتے ہیں مگر کشمیر میں ہونے والی رسوائی کا زخم تازہ اور ہرا ہے۔ افغانستان کے حکمران ٹولے کے حسد اور جلن کی بنیادیں قیام پاکستان اور ڈیورنڈ لائن کے آس پاس تلاش کی جا سکتی ہیں اور اس طرح یہ سب غم اور دکھ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین پر یکجا ہو گئے ہیں اور یوں پاکستان کی مغربی سرحد غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر پاک فوج کو چومکھی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ سوائے چین کی سرحد کے اور کہیں سے سکون آور ٹھنڈی ہوائوں کا گزر نہیں ہوتا۔ ریاست نے اپنی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے کر تیز رفتار اقدامات نہ اُٹھائے تو عوام کی طویل، صبر آزما اور اعصاب شکن قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن ایک بار پھر دائو پر لگ سکتا ہے۔