حکومت بجٹ بنائے مولاجٹ نہ بنے

134

حبیب الرحمن

پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ بجٹ میں جن جن مدآت کا ذکر کر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، اس کے اخراجات حکومت کو حاصل ہونے والی آمدنی سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اْن زائد اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کچھ تو نئے لگائے جانے والے ٹیکسوں سے ہونے والی متوقع آمدنی کو اصل آمدنی تصور کر لیا جاتا ہے اور کچھ اس امید پر کہ بہت کچھ قرضوں کی صورت میں مل جائے گا یا دنیا ہماری مدد کردے گی، پر انحصار کرکے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم اپنے سارے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں ایک مرتبہ بھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ پاکستان نے اپنی ہونے والی اصل آمدنی کے مطابق اپنے آمد و خرچ کو سامنے رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کی ہو۔
گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی بجٹ کا تخمینہ تقریباً 7ہزار22 ارب روپے لگایا جارہا ہے جبکہ پاکستان کی اپنی آمدنی 7 ہزار ارب روپوں سے کہیں کم ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پہلے سے عائد ٹیکسوں کی مد میں تقریباً 8 سو ارب روپوں کے نئے ٹیکس لگائے جانے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے گویا امسال بھی ٹیکسوں کا یہ بھاری بوجھ بھی عام عوام ہی پر ڈالا جائے گا جبکہ عوام سے کہا یہ گیا تھا کہ ان کی زندگی کو آسان بنایا جائے گا اور مہنگائی کے پہاڑ کے بوجھ سے ان کو نکال کر خوشحالی کی منزل کی جانب گامزن کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مرتبہ پاکستان کی افواج نے رضاکارانہ طور پر کسی بھی قسم کا اضافی بجٹ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے موجودہ حکومت کو کافی مدد ملے گی لیکن جو بات دیکھنے میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے حکومتی اخراجات میں کمی کرنے کے دعوؤں کے اعلانات کے باوجود ان کے اخراجات میں گزشتہ حکومتوں کے اخراجات کے مقابلے میں بے پناہ اضافہ تو ہوا ہے، کمی کہیں دیکھنے کو نہیں ملی۔
پاکستان کا ایک المیہ یہ بھی رہا ہے کہ خیالی پلاؤ پکانے کی مثال کی طرح ہر قسم کا ہدف مقرر کرتے ہوئے یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ جیسے نہ صرف ہدف 100 فی صد حاصل ہوجائے گا بلکہ ہدف سے کچھ زیادہ آمدنی بھی حاصل ہو جائے گی جبکہ پاکستان کی ساری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان آمدنی کی مد میں جو جو بھی اہداف مقرر کرتا چلا آیا ہے، آمدن ہمیشہ اس سے کہیں کم رہی ہے۔ امسال بھی ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس ملک کے کل بجٹ کا تخمینہ 7000 ارب روپے رکھا گیا ہو اور اس کا انحصار ایف بی آر پر ہی ہو، اس ملک کی اقتصادی صورت حال کی زبوں حالی کا کیا حال ہوگا۔ حکومتیں وہی مضبوط اقتصادی پالیسیاں بنا سکتی ہیں جن کے اپنے بنائے منصوبے اور ذرائع حکومت کو آمدنیاں فراہم کر رہے ہوں۔ حکومت کے تحت پاکستان میں جتنے بھی ادارے ہیں یا حکومت وقت نے جن جن اداروں کو اپنی ذاتی جائداد سمجھ کر قومیا لیا تھا، وہ سب نہ صرف تباہی و بربادی کا شکار ہیں بلکہ وہ سب کے سب حکومت کے لیے سفید ہاتھی بنے ہوئے ہیں اور عوام پر لگائے جانے والے ٹیکسوں سے وصول ہونے والی آمدنیوں کو ان میں ایندھن کی طرح جھونکا جارہا ہے۔ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل، واپڈا، پاکستان ریلوے، پاکستان پوسٹ، ٹی اینڈ ٹی، ملیں کارخانے اور تمام قومیائے گئے تعلیمی ادارے اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ سب ادارے حکومت کو آمدنی فراہم کرنے کے بجائے حکومت کی چھاتی پر مونگ دلنے کے سوا اور کسی کام کے نہیں۔ ان سب اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں تک کی ادائیگی عوام کے ٹیکسوں سے کی جاتی ہے۔ اداروں کو قومیائے جانے کی پالیسی پہلے زخم پھر پھوڑا، پھر ناسور اور اب کینسر بن چکی ہے۔ ہر آنے والی حکومت نے جب جب بھی ان زخموں کر کریدنے اور ان کو فروخت کرنے کی کوشش کی یہ سب کے سب چاروں جانب سے پھوٹ بہے اور اب تک ساری حکومتوں کو اپنے فیصلے واپس لینے پڑے۔ ہمیشہ کی طرح ہر حکومت کو پچھلی حکومتوں سے گلہ ہی رہتا ہے۔ اس حکومت نے بھی پچھلی حکومت کے لیے گئے قرضوں پر لگائے گئے سود کی مد میں 2500 ارب روپے مختص کیے ہیں جو ایک بہت بھاری رقم ہے لیکن اسے یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایسا ہر حکومت کرتی رہی ہے بالکل اسی طرح جیسے موجودہ حکومت کے لیے گئے قرضوں کا سود اور قرضوں کی اقساط نئی قائم ہونے والی حکومت کرتی دکھائی دے گی۔
گزشتہ کل پاکستان اور موجودہ حکومت کے لیے کوئی اچھا دن ثابت نہیں ہوا کیونکہ کل وزیراعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے اسلام آباد میں جب معاشی سال 19-2018 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کی تو کہیں کوئی مثبت چیز نظر نہیں آئی۔ ان کی رپورٹ میں رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 6.2 فی صد تھا لیکن معاشی ترقی اس کا نصف یعنی 3.3 فی صد رہی۔ اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو 0.85 فی صد رہی جب کہ زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.8 فی صد تھا۔ صنعت کا شعبہ بْری طرح متاثر نظر آیا، اس شعبے میں ترقی کا ہدف تو 7.6 فی صد رکھا گیا تھا مگر شرح نمو محض 1.4 فی صد رہی۔ اسی طرح خدمات کے شعبے کی ترقی کی شرح 4.71 فی صد رہی تاہم خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 6.5 فی صد تھا۔ حسب روایت انہوں نے اس سارے خساروں کا ذمے دار گزشتہ حکومتوں ٹھیرایا لیکن وہ اس بات کو بھول گئے کہ وہ خود بھی گزشتہ حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات 20 ارب ڈالر پر منجمد ہیں، گزشتہ حکومت کے دور میں تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر جبکہ 2018 میں قرضہ 31 ارب تک پہنچ گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز، بجٹ پیش ہونے سے صرف چند گھنٹوں قبل، وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام ایک اہم پیغام میں اپنے پچھلے پیغام ’’ٹیکس ایمنسٹی اسکیم (لوٹی ہوئی حرام دولت کو حلال کرنے کی اسکیم)‘‘ کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا اور حرام خوروں سے کہا کہ دولت کو حلال کروالو۔ ساتھ ہی ساتھ بین السطور دھمکی بھی دی کہ ’’تم سب بیرون ملک پاکستانیوں کے متعلق ہمارے پاس بہت سی معلومات ہیں، پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات آرہی ہیں جو پہلے کبھی کسی حکومت کے پاس نہیں تھیں‘‘، اس بحث سے ہٹ کر کہ ان کے خلاف سخت کارروائیوں کے بجائے محض چند فی صد لے کر ان کی ساری حرام خوریوں کو معاف کرنا عین انصاف ہے یا نہیں، جو بات اب تک سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی اسکیم کی مد میں ایک روپیہ بھی بینک میں نہیں آیا ہے جبکہ مدت ختم ہونے میں 19 دن ہی رہ گئے ہیں۔
ایک جانب آج بجٹ پیش ہورہا ہے، دوسری جانب آئی ایف کی کڑی شرائط ہیں، مہنگائی جن کی صورت میں اپنا حجم بڑھاتی جارہی ہے، نئے ٹیکسوں کی وجہ سے سرمایہ کار باہر بھاگے جارہے ہیں، ڈالر کی پرواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے اور اسٹاک مارکیٹ کریش ہونے کے قریب ہے، ایسی صورت حال میں ملک میں سیاسی حدت کو بڑھ جانے اور مخالفین کی مختلف بہانے گرفتاریاں حکومت کے لیے ایک بہت بڑا عذاب ثابت ہو سکتی ہیں اس لیے حکومت کو چومکھی لڑنے کے بجائے حکمت عملی سے کام لینا چاہیے۔ حکومتی اخراجات میں کمی کرنی چاہیے اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھانے کے بجائے ان کی مشکلات میں کمی کا سوچنا چاہیے۔ اس ناگفتہ بہ صورت حال کا کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مشکلات میں گھرے عوام کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے گھیر سکتا ہے۔ امید ہے کہ تلخیوں کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور احتساب کو یا تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مخالفین سے ہٹا کر سب کے لیے یکساں کر دیا جائے یا اسے مؤخر کرکے حالات کو سازگار بنایا جائے، بصورت دیگر ملک دشمن عناصر (اندرونی و بیرونی) ان حالات کا ہر صورت میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے جو ریاست کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔