قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

73

اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا۔ (تم کچھ نہیں کر سکتے) اِلّا یہ کہ اللہ چاہے اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو ’’امید ہے کہ میرا رب اِس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا‘‘۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں) 9 سال اور بڑھ گئے ہیں۔ تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اْسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اْس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (سورۃ الکہف:23تا 26)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردو اور تم یہ شہادت ادا کرو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات عبادت اور بندگی کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ (مسند احمد)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک انسانوں میں کچھ اللہ والے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ والوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن والے اللہ والے ہیں اور مخصوص بندے ہیں۔ (نسائی، ابن ماجہ)