حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت خارج، نیب نے گرفتار کرلیا

36
لاہور: نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے دوران حمزہ شہباز کارکنان کے نعروںکاہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہیں
لاہور: نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے دوران حمزہ شہباز کارکنان کے نعروںکاہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہیں

 

لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت خارج کردی جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے آمدن سے زاید اثاثے اور رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ حمزہ شہباز اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب نے اپنے موقف میں کہا کہ حمزہ شہباز کی
رمضان شوگر ملز میں درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے‘ جو مسترد کرکے ان پر جرمانہ عاید کیا جائے‘ ان کے نیب پر الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں‘ انہوں نے 2015ء میں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر رمضان شوگر ملزکے لیے نالہ تعمیر کیا‘ شہباز شریف کی فیملی کے اثاثوں میں اربوں روپے اضافہ ہوا‘ حمزہ شہباز آمدن سے زاید اثاثوں کے معاملہ پر ثبوت فراہم نہیں کر سکے‘ 2018ء میں حمزہ شہباز کے اثاثے41 کروڑ تک سامنے آئے‘ وہ 38 کروڑ روپے کے اثاثے ثابت نہیں کرسکے‘ غیر قانونی طریقے سے پاکستان سے پیسے دبئی اور انگلینڈ بھجوائے گئے‘ 40 لوگ شہباز شریف فیملی کے ساتھ منی لانڈرنگ میں ملوث تھے‘ 2 منی ایکس چینجر کو پاکستان میں گرفتار کرلیا ہے ‘ حمزہ شہباز شریف کو 7 نوٹسز بھیجے گئے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کے تحت انکوائری مکمل ہونے تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے جاسکتے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ 100 فیصد قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا‘ باہر کیا باتیں ہو رہی ہے‘ ہمیں کسی سے غرض نہیں‘ ہم صرف اللہ کو جوابدہ ہیں۔ حمزہ شہباز نے عدالت سے استدعا کی کہ ضمانت میں توسیع کی درخواست کو منظور کیا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ یہ ایک آئینی درخواست ہے جس میں توسیع کا اختیار احتساب عدالت کے پاس ہے۔ اس پر حمزہ شہباز نے ضمانت کی دونوں درخواستیں واپس لے لیں۔ عدالت نے سماعت کے بعد حمزہ شہباز کی درخواستیں خارج کردی جس کے بعد نیب کی ٹیم نے انہیں گرفتار کرلیا۔ علاوہ ازیں حمزہ شہباز نے لاہور ہائی کورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے جیل نئی نہیں ہیں‘ میں پاکستانی قوم کے لیے سوال چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ آج پاکستانی قوم یہ دیکھے چیئرمین نیب کے جاوید چودھری کو انٹرویو کے مطابق بدنیتی پر مبنی خواہش پوری ہوتی ہے یا حمزہ شہباز کو انصاف ملتا ہے۔
حمزہ گرفتار