آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، حکومت نے صرف سنانے کا فریضہ ادا کیا، سراج الحق

42

 

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہاہے کہ یہ پاکستان کا بجٹ نہیں ، بلکہ پاکستانی عوام کے لیے آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جس میں سارازور ٹیکس اور اشیا کی قیمتیں بڑھانے پر دیا گیاہے ۔ حکومت نے صرف آئی ایم ایف کا تیا ر کردہ بجٹ پڑھ کرسنانے کی ذمے داری ادا کی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بجٹ میں عام آدمی کو درپیش مشکلات کے حل اور مہنگائی کو کم کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ بجٹ الفاظ کا وہ گورکھ دھندا ہے جو خود معاشی افلاطونوں کی سمجھ میں بھی نہیں آرہا ۔ انہوں نے کہاکہ10 ماہ کی قلیل مدت میں حکومت نے یہ تیسرا بجٹ پیش کیا ہے جو 2ہزار5 سو 50 ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے ۔ کل آمدن 5 ہزار5 سو ارب ہے جبکہ بجٹ اخراجات 6 ہزار7 سو ارب روپے ہیں ۔ مہنگائی 100 فیصد بڑھ گئی ہے
جبکہ تنخواہوں میں صرف 10 فیصداضافہ کیاگیاہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اگرچہ ماضی کی حکومتوں نے قرضے لے کر غلط کیا مگر موجودہ حکومت نے دگنا زیادہ قرض لے کر کونسا اچھا کیا ہے۔یہ بجٹ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ خسارے والا بجٹ ہے۔ بجٹ آئی ایم ایف کی ٹیم نے بنایا ہے ۔ماضی کی حکومتوں نے قرض لے کر غلط کیا ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے پاس جاکر اپنے ملک پر بوجھ ڈالا تھا لیکن موجودہ حکومت نے تو اس میں کئی گنا اضافہ کیا ہے ۔ اس بجٹ میں 700 ارب روپے کے مزید ٹیکسز لگائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں مہنگائی ہوگی اور عام آدمی پر بوجھ بڑھے گا۔ بالواسطہ ٹیکس میں اضافہ ہوناچاہیے بلاواسطہ ٹیکس سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ بلاواسطہ ٹیکس چوکیدار، ٹیکسی ڈرائیور اور عام آدمی بھی دیتا ہے یہ حقیقت ہے ٹیکس کے بغیر کوئی بھی حکومت نہیں چل سکتی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ٹیکس غریب سے لینا ہے یا امیر سے لینا ہے یہاںٹیکس غریب سے لیا جاتا ہے اور امیر پر کم سے کم بوجھ ڈالا جاتا ہے۔دریں اثنانائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے قومی بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کا تیار کردہ بجٹ عوام پر مسلط کر دیاہے ۔ بجٹ کی تیاری میں حکومت ، کابینہ ، پارلیمنٹ کا کوئی کردار نہیں یہ المیہ ہے کہ بدترین معاشی بحران میں پاکستان کا وزیر خزانہ بھی نہیں ہے جو بجٹ آئی ایم ایف کی ٹیم نے تیار کیا ہو اور خفیہ معاہدوں کی بدترین شرائط کی روشنی میں میزانیہ تیار ہوا اس میں عوام کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ عوام دشمن بجٹ عوام کا دم نکال دے گا ۔ صنعت اور تجارت مزید دبائو میں آئے گی ٹیکسز کا بوجھ افراط زر اور بے روزگاری لائے گا ۔ عوام کی قوت خرید نہ ہونے کے برابر سطح پر آ جائے گی ۔ تنخواہ دار طبقہ اور پنشنرز کی پنشن میں اضافہ افراط زر کی شرح سے نہیں کیا گیا ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ جماعت اسلامی 16 جون کو لاہور میں عوام دشمن بجٹ ، مہنگائی ، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف زبردست عوامی مارچ کرے گی ۔علاوہ ازیں لیاقت بلوچ نے امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کی ، انہیں عمرے کی ادائیگی اور بیت اللہ میں اعتکاف کی مبارکباد دی۔ ملکی صورتحال ، فاٹا خیبر پختونخوا انتخابی ،سیاسی صورتحال اور مہنگائی ، بے روزگاری، آئی ایم ایف کی بدترین خفیہ معاہدے کی غلامی کے خلاف 16 جون کے عوامی مارچ کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا ۔
سراج الحق