بجٹ بزنس فرینڈلی نہیں، فائلرز پر ٹیکسوں کا دبائو ڈالا گیا، تاجروں نے مسترد کردیا

83

 

کراچی (نمائندہ جسارت)کراچی کی تاجر برادری نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ بزنس فرینڈلی نہیں‘فائلرز پر ٹیکسوں کا دباؤ ڈال دیاگیا‘ بزنس کمیونٹی سے جووعدے کیے وہ پورے نہیں کیے،یہ مشکل بجٹ ہے جس سے ہمیں مایوسی ہوئی کیونکہ بزنس کمیونٹی کی بجٹ سے توقعات پوری نہیں ہوئیں، پاکستانی افواج نے اپنے بجٹ میں جو کمی کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔یونائٹیڈ بزنس گروپ
کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیرنے کہا کہ یہ کسی بھی طرح سے بزنس فرینڈلی بجٹ نہیں ہے کیونکہ فائلرز پر ہی مزید ٹیکسوں کا دبائوڈال دیا گیا ہے،ایکسائز ڈیوٹی دنیا بھر میں ختم ہوگئی ہے لیکن پاکستان میں بہت زائد شرح سے لگادی گئی ہے جس سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوگا،زیروریٹیڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو برباد کردیا گیا ہے،پہلے ہی 400ارب روپے کے ریفنڈز حکومت کے پاس ہیں جو وعدوں کے باوجود کئی سال سے نہیں دیے گئے اور اگر مزید 400ارب روپے حکومت کے پاس جمع ہوئے تو کیسے دے گی،ٹیکسٹائل کی صنعت کابراحال ہے مشینیں تول کے بھائو بِک رہی ہیں،حکومت کا5550ارب روپے کا ریونیو ہدف کا حصول انتہائی مشکل ہوگا۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بھی وفاقی بجٹ کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگ بھگ تمام ہی صنعتوں پر نئے ٹیکس عاید کیے گئے ہیںجس کے نتیجے میں عام افراد براہ راست متاثر ہوںگے ،معلوم نہیںکہ ایسا بجٹ کس کی ایماء پر تیار کیا گیا ہے جبکہ زیرو ریٹڈ کی سہولت ختم کرنے سے ملکی بر آمدات میںکمی ہوگی اور بے روزگار ی میںاضافہ ہوگا۔بزنس مین گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان کے معاشی ایجنڈے کے لیے جو لوگ کام کررہے ہیں وہ ٹھیک نہیں،ٹیکسٹائل کو 17فیصد۔ اسٹیل 17 فیصد۔آٹو موبائل 10فیصد۔ جیولری ماربل 17فیصد ڈیوٹی بڑھادی گئی،چینی۔گھی۔کوکنگ آئل مشروبات پر ڈیوٹی 17فیصد بڑھائی گئی، ایف بی آرکو ٹیکس وصولی کے لیے 5550ارب روپے کا انتہائی مشکل ہدف دیا گیا ہے ،بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میںعام آدمی پر کوئی بوجھ نہیںپڑے گا تاہم لگ بھگ تمام ہی صنعتوں پر نئے ٹیکس عاید کیے گئے ہیں جس سے یقینی طور پر عام عوام براہ راست متاثر ہوںگے ،چینی پر جی ایس ٹی میں اضافے سے کیا عام آدمی متاثر نہیںہوگا؟صنعتیں نئے ٹیکس لگنے کے بعد اپنی اضافی پیداواری لاگت کو عوام تک منتقل کریںگی جس سے مہنگائی میںاضافہ ہوگا ،چینی کے ساتھ ساتھ سیمنٹ پر بھی ڈیوٹی میںاضافہ کیا گیا ہے جس سے تعمیرات مہنگی ہوجائینگی اور لوگوں کے لیے اپنے گھروں کی تعمیر کا خواب مزید مشکل ہوجائیگا ،ہمیںچیئرمین ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ٹیکس دینے والوں کو نہیں چھیڑا جائیگا تاہم اس بجٹ سے لگتا ہے کہ ٹیکس دینے والوں پر ہی مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹیکس وصولی کے چکر میںچلتی ہوئی صنعتوں کو بند نہ کیا جائے ،بیوریجز کی صنعت پہلے ہی100ارب روپے کا ٹیکس ادا کررہی ہے اور اس سے مزید10ارب روپے کا ٹیکس مانگ لیا گیا ہے ، 1000سی سی گاڑی پر ٹیکس عاید کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ یہ چھوٹی گاڑی ہے جو کہ لگژری آئٹم کے زمرے میں نہیں آتی ہے۔پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید بلوانی کے مطابق پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو ٹیکسٹائل پالیسی پیش کی تھی، موجودہ بجٹ اس کے برعکس ہے،ایکسپورٹرز حکومت کے ایس آر او 1125کی منسوخی کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں،5 ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے زیرو ریٹنگ کے خاتمے کی وجہ سے ایکسپورٹس میں ہر سال 30 فیصد کمی ہوگی،5 ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے زیرو ریٹنگ کا خاتمہ تباہ کن اثرات لائے گا،ایکسپورٹرز کی لیکویڈیٹیزپھنس جائیں گی اور صنعتی پیداوار شدید متاثر ہوگی،گارمنٹس کی تیاری سے شپمنٹس تک 4ماہ کا عرصہ لگتا ہے اور سال میں 3ایکسپورٹ سائیکل بنتے ہیں، ایکسپورٹرز کی سالانہ 54 فیصد تک لکویڈیٹی پھنس جائے گی،اس طرح ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگی کا دورانیہ 8ماہ سے بھی بڑھ جائے گا،زیرو ریٹیڈاسکیم کا خاتمہ ایکسپورٹ انڈسٹریز کے لیے مسائل اور بربادی کا باعث بنے گا،سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو گا، بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہوگی اور کثیر زرمبادلہ کا نقصان ہوگا،آئی ایم ایف کی شرائط پر ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے زیرو ریٹنگ کا خاتمہ ایکسپورٹ انڈسٹری کی تباہی کا اقدام ہے،اسمال اور میڈیم ایکسپورٹ انڈسٹریز زیروریٹنگ کے خاتمے اور سیلز ٹیکس کے نفاذ سے بند ہو جائیں گی،بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، ایکسپورٹس میں کمی ہوگی، سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوگا اور وسیع پیمانے پر انارکی پھیلے گی اور امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہوگی۔
تاجر برادری