محمد شہزاد نے انجری سے متعلق افغان بورڈ کا موقف سازش قراردیدیا

111

کابل (جسارت نیوز) افغانستان ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد شہزاد رواں ورلڈ کپ سے باہر کئے جانے پر افغانستان کرکٹ بورڈ پر برس پڑے اور اسے بورڈ کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بورڈ کو میری ضرورت نہیں رہی تو میں انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑنے کیلئے تیار ہوں۔ افغانستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچز کے بعد شہزاد کو ان فٹ قرار دے کر میگا ایونٹ سے باہر کر کے متبادل کے طور پر اکرام علی خیل کوا سکواڈ میں طلب کیا تھا۔ شہزاد نے اپنے بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ میں ملک کی نمائندگی خواب تھا، 2015ء ورلڈ کپ سے بھی مجھے باہر کیا گیا اور اب انجری کا بہانہ بنا کر رواں ورلڈ کپ اسکواڈ سے بھی باہر کیا گیا جبکہ میں کھیلنے کیلئے مکمل طور پر فٹ ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر مجھے ٹیم سے کیوں نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے قبل میں نے پریکٹس سیشن میں بیٹنگ، بولنگ اور وکٹ کیپنگ کی پریکٹس کی، ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ لنچ بھی کیا اور جب واپس ہوٹل پہنچا تو میں نے اپنے فون پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی پریس ریلیز دیکھی کہ میں ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں نے منیجر سے اس بارے پوچھا تو انہوں نے ڈاکٹر سے رابطے کا کہا اور جب ڈاکٹر سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر کچھ نہیں کر سکتے، اگر بورڈ کو کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتائے میں کرکٹ چھوڑ دوں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ دوبارہ ملک کیلئے کھیل سکوں گا، فیملی اور دوستوں سے مشاورت کے بعد اپنے مستقبل کے بارے فیصلہ کروں گا۔ واضح رہے کہ شہزاد کو افغانستان کی طرف سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 2727 رنز بنا رکھے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسداللہ خان نے شہزاد کے دعویٰ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر غلط بیانی کر رہے ہیں، ہم نے آئی سی سی کے پاس میڈیکل رپورٹ جمع کرانے کے بعد متبادل کھلاڑی کا اعلان کیا، میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپ سیٹ ہیں لیکن ہم کھلاڑیوں کی فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔