وزیرمملکت حماد اظہر بجٹ پیش کررہے ہیں

153

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آج اپنا پہلا باضابطہ بجٹ پیش کررہی ہے جس کے لیے قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کا آغاز ہوگیا ہے۔

بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود ہیں جب کہ وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو  مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مالی سال 2019-20  کے بجٹ کا حجم  6800 ارب اور ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5500 ارب رکھا گیا ہے، دفاع کیلیے 1150 ارب، ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1837ارب روپے جب کہ وفاق کے تحت سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 925 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔

مالی خسارے کا ہدف 3 ہزار ارب جب کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 2 ہزار 5 سو ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے جب کہ ایک سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 10 فیصد، گریڈ 17 سے 20 کیلئے 5 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری افسران کی  تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ چارلاکھ سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس دینا ہوگا۔بجٹ میں وفاقی وزراؤں کی تنخواؤں میں  10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمزور طبقے کے لئے  حکومت نے چار خصوصی پالیسیز ترتیب دی ہیں، کمزور طبقے کو بجلی پرسبسڈی دینے کے  لئے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

غربت کے خاتمے کے لئے نئی وزارت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، 10 لاکھ افراد کے لئے نئی راشن کارڈ اسکیم شروع کی جارہی ہے۔ احساس پروگرام کےتحت وظیفے 5000 روپے سے بڑھا کر 5500 روپے کیے جائیں گے۔

عمر رسیدہ افراد کے لئے احساس گھر بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 روپے کی جا رہی ہے. کمزور طبقے کی سماجی تحفظ کے لئے بجٹ مختص کیا گیا ہے.

حکومت صحت کے شعبہ کی ترقی کیلیے سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کررہی ہے، سگریٹ اور مشروبات پر عائد ٹیکسز صحت کے شعبہ پر خرچ کئے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ کو عوام دوست بجٹ کی تیاری کا حکم دیا ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔