ایران نے میزائل دفاعی نظام فوج کے سپرد کدیا

85
تہران: جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں‘ چھوٹی تصویر دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی ہے
تہران: جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں‘ چھوٹی تصویر دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی ہے

 

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام فوج کے سپرد کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دفاعی نظام بیک وقت 6 اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عامر حاتمی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ فوج کے حوالے کیا جانے والا دفاعی نظام ’’15 خرداد‘‘ دشمن کے جنگی طیاروں اور ڈرونز کو 120 کلومیٹر کے فاصلے تک نشانہ بناسکتا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق ایران میں مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام 45 کلو میٹر کے علاقے میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل اہداف کا بھی پتا چلانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ ایران نے فضائی دفاعی نظام ایسے وقت میں اپنی افواج کے حوالے کیا ہے جب اس پر عائد کی گئی امریکی پابندیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں اور ساتھ ہی خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی سے صورتحال میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کریں وگرنہ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ علاوہ ازیں عالمی جوہری معاہدے میں شامل یورپی فریقین کو ایران کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے پیر کی صبح سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جوہری ڈیل اور ایرانی مفادات کے تحفظ کے سلسلے میں فی الحال یورپی ممالک کی جانب سے کوئی عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ اس وقت تہران حکومت جوہری ڈیل کے سوا کسی بھی موضوع پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ دریں اثنا جرمن وزیر خارجہ ایرانی جوہری معاہدے کو بچانے کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ روز تہران پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پیر کے روز تہران میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی معاملات کے علاوہ ایرانی جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے بھی ملاقات کی، جس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ شروع کرنے کے بعد امریکا بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دوسری جانب عالمی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے نے ایران کی جانب سے جوہری ڈیل سے جزوی دستبرداری کی دھمکی سے پیدا ہونے والی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر یوکیا امانو نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے جاری بیان میں امید ظاہر کی کہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جا سکے گی۔ واضح رہے کہ ایران نے امریکی پابندیوں کے رد عمل میں جوہری ڈیل سے جزوی دست برداری اور یورینیم کی افزودگی بحال کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے ۔