وفاق سے مکمل حصہ نہ ملنے کے باعث عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے،وزیرعلیٰ سندھ

77

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی منتقلیوں میں تقریباً 140 بلین روپے کے شارٹ فال کی وجہ سے صوبائی حکومت صوبے کے غریب لوگوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کے حوالے سے بڑی مشکل سے دوچار ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کوعلامہ عباس کمیلی کی رہائش گاہ سولجر بازار میں سوگوار خاندان سے تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔صوبائی وزراء￿ سعید غنی، امتیاز شیخ اور معاون خصوصی راشد ربانی بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جون میں ایک خط کے ذریعے سندھ حکومت کو بتایا کہ وہ رواں مالی سال کے دوران666بلین روپے دے گی مگر ہمیں(صوبائی حکومت) کو ابھی تک صرف 492 بلین روپے وصول ہوئے ہیں اور وفاقی حکومت نے اس ماہ کے آخر تک تقریباً 174 بلین روپے جاری کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج صبح محکمہ خزانہ کو ایک خط موصول ہوا جس کے تحت 35بلین روپے مزید صوبائی حکومت کے حصے سے کٹوتی کرلیے گئے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت سندھ کے لوگوں کوکچھ ریلیف دینے کے قابل ہوگی اگر وفاقی حکومت سندھ کو 130 بلین روپے جاری کردے۔انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی صورتحال صرف سندھ حکومت کے ساتھ ہی نہیں بلکہ دیگر صوبے بھی اسی قسم کی صورتحال کا شکار ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ گزشتہ 10برس سے صوبائی حکومت کا بجٹ بنارہے ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی اس طرح کی سنگین مالی صورتحال نہیں دیکھی جس میں بجٹ بنانا ایک ناقابل تسخیر کام بن جائے۔ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومتی بجٹ پر عمومی طورپر تنقید ہوتی ہے مگر اس مرتبہ وفاقی حکومت کو عوام کی جانب سے ناپسندیدگی کا سامنا ان کی اپنی نااہلی کے باعث ہوگا کیونکہ یہ ریونیو جمع کرنے کے اہداف حاصل نہیں کرسکے اورانہوں نے ملک کے لوگوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے مکمل طورپر انکار کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وفاقی حکومت کا نہ تو کوئی ویژن ہے اور نہ ہی انہیں پاکستان کے غریب لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کا خیال ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ یہ توقع کررہے تھے کہ وزیراعظم 10 جون کو قوم کے نام اپنے پیغام میں کوئی اچھی خبردیں گے مگر ان کے 5 منٹ کی وڈیو ٹاک میں کچھ بھی مثبت نہیں تھا۔کے فور منصوبے کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما خوامخواہ کا شور شرابا کررہے ہیں کہ صوبائی حکومت نے منصوبے کو تباہ کردیا۔ہاں! ہوسکتا ہے کہ میں نے یا کسی اورنے منصوبے کے ساتھ کچھ غلط کیا ہو مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ (وفاقی حکومت) کراچی کے لوگوں کو یہ منصوبہ ختم کرکے اتنی سخت سزا دیں ۔ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حادثاتی طورپر پی ٹی آئی نے 2018 ء کے انتخابات میں چند سیٹیں جیتی ہیں، اگر دیکھا جائے تو ان کی عوام میں نہ تو جڑیں ہیں اور نہ ہی انہیں عوام میں اپنی جڑیں بنانے میں کوئی دلچسپی اور خیال ہے۔انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان سے پوچھیں کہ پی ٹی آئی نے ان کے روایتی حلقوں بالخصوص 90 کے علاقے سے کس طرح کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہی میں کہنا چاہ رہاہوں کہ وہ حادثاتی طورپر اسمبلیوں میں آئے ہیں لہٰذا وہ اس شہر کی تعمیرو ترقی کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔قبل از یں مراد علی شاہ نے علامہ عباس کمیلی کی وفات پر ان کے بیٹے کاظم عباس کمیلی سے تعزیت کی اور مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی۔انہوں نے کہا کہ علامہ عباس کمیلی ایک عظیم انسان تھے اور انہوں نے ہمیشہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لیے کام کیا۔ ان کی وفات سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جسے پْر کرنا بہت مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عباس کمیلی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ میجر معیز شہید کی رہائش گاہ پر گئے جو کہ 7 جون کو جنوبی وزیرستان میں شہید ہوگئے تھے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے شہید میجر معیز کے والد مقصود بیگ سے تعزیت کی ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ قوم اور میجر معیز کے خاندان کو ان کی قربانی پر فخر ہے اور وہ ہمیشہ قوم کے ہیرو کے طورپر یاد رکھے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت ہمیشہ پولیس اور رینجرز کے جوانوں کے خاندانوں کو معاوضہ دیتی ہے جو کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں شہید میجر معیز کے خاندان کو معاوضہ دینے کے لیے طریقہ کار اور راستہ تلاش کروں گا۔علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ آصف زرداری ایک محب وطن ، منجھے ہوئے سیاستدان اور بہادر رہنما ہیں اور ان کی گرفتاری کارکنوں کے حوصلے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جدوجہد کو نہیں روک سکتی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ آصف زرداری کی گرفتاری پر کارکن صبر اور حوصلے سے کام لیں۔ پُرامن احتجاج سب کا حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں ڈرانا دھمکانا، سرکاری یا غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ میں ہرگز یہ برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی زبردستی دکانیں یا کاروبار بند کرائے،اسلحے کی نمائش یا ڈنڈا برداری کر کے ہراساں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگ پُرامن جدوجہد کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور کبھی بھی خوف کا ماحول پیدا نہیں کرتے۔