جس کو بلاتے ہیں وہ عمرے پر چلا جاتا ہے، عدالت عظمیٰ

86

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)عدالت عظمیٰ نے شوگر ملوں کی جانب سے کسانوں کو ادائیگی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت جس کو بلاتی ہے وہ عمرے پر چلا جاتا ہے،آئندہ جو پیش نہ ہوا اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے۔جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3رکنی بینچ نے شوگر ملوں کی جانب سے کسانوں کو ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے چیف سیکرٹری اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت کین کمشنر،سینئر رکن بورڈ آف ریونیو اور مل مالکان کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کوخود اس معاملے کو دیکھنے اور شوگر ملز کے وکلا کو آئندہ سماعت پر بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت(کل) بدھ 12 جون تک ملتوی کر دی۔علاوہ ازیںعدالت عظمیٰ میں سابق ایگزیکٹو انجینئر سی این ڈبلیو ظفر بیگ کے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے خیبر پختونخوا حکومت سے4 سوالات پر تحریری جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 14 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی ۔ کیس کی سماعت جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی ۔ دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ اثاثے بنانا جرم نہیں سوال یہ ہے کہ اثاثے معلوم آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں ہم اثاثوں اور آمدن دونوں کے توازن کو دیکھنا ہے عدالت نے اس موقع پر سوال اٹھائے کہ کیا استغاثہ نے ظفر بیگ کی آمدن سے متعلق شوائد اکھٹے کیے اگر ایسا کیا گیا تو ظفر بیگ کی مجموعی آمدن کتنی تھی کیا بے نامی والا جائداد رکھنے والوں کے خلاف کوئی گواہ پیش ہوا کیا کوئی بے نامی دار شامل تفتیش کیا گیا جن مالکان نے بے نامی جائداد خریدی کیا ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے معاملے میں ٹرائل کورٹ نے ملزم ظفر بیگ کو بری کردیا تھا جبکہ ہائی کورٹ نے حکومتی اپیل پر اثاثے معلوم آمدن سے مطابقت رکھنے کا فیصلہ دیا ملزم ظفر بیگ کی طرف سے ہائی کورٹ کا فیصلہعدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا تھا ظفر بیگ 1992ء میں ایگزیکٹو انجینئر سی این ڈبلیو کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں عدالت نے کے پی کے حکومت کو ٹیکس میں اٹھائے گئے سوالات پر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کردی ۔