زرداری کے بعد فریال تالپور ، بلاول اور مرادعلی شاہ بھی گرفتار کیے جاسکتے ہیں

122

کراچی ( تجزیہ : محمد انور ) جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمے میں بالآخر سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو قومی احتساب بیورو نے گرفتار کرلیا۔ ان کی گرفتاری پیر کو اسلام آباد سے ان کی رہائش گاہ زرداری ہاوس سے عمل میں لائی گئی۔ آصف زرداری کی گرفتاری جعلی اکاؤنٹس کیس میں ان کی اور بہن فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ چونکہ آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائی دینے سے قبل ہی کورٹ کے احاطے سے عام ملزموں کی طرح خاموشی سے باہر چلے گئے تھے۔ اس لیے نیب کو سہ پہر ان کے زرداری ہاؤس سے انہیں گرفتار کرنا پڑا۔ آصف زرداری کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب قومی اسمبلی میں منگل کو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جانا ہے۔ جبکہ دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف اتوار کو ہی وطن واپس پہنچ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد آج (منگل ) کو ان کی بہن فریال تالپور کو گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرپشن کے خلاف جاری احتساب کا عمل اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ جبکہ پیر سے قبل تک آصف زرداری کی گرفتاری کے امکانات کے باوجود گرفتار نہ کرنے سے عام لوگ یہ یقین کرنے لگے تھے کہ آصف زرداری اور ان کی بہن وساتھی گرفتار نہیں ہو سکیں گے۔ اسی تاثر کی وجہ سے احتسابی عمل پر ایک بڑے حلقے میں شکوک وشبہات پیدا ہونے لگے تھے۔ عام افراد یہ خیال کر رہے تھے کہ یہ احتساب صرف نوازشریف اور ان کے خاندان تک محدود ہے۔ تاہم آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد یہ تاثر زائل ہوچکا ہے۔ قوم کا ایک بڑا بے اثر طبقہ یہی چاہتا تھا کہ ملک کو لوٹنے والے بااثر شخصیات خصوصا چمپئن سیاستدان کو پکڑا جائے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے 10 ماہ میں کرپشن کے مقدمات میں ملوث میاں نواز شریف ، ان کے بھائی شہباز شریف اور آصف زرداری کی گرفتاریوں سے یہ تاثر مستحکم ہو رہا ہے کہ سخت اور تاریخی احتسابی عمل جاری ہے۔ اگرچہ کرپشن کے مقدمات پر نیب کی ابتدائی تحقیقات پر ایک ٹی وی اینکر کے ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے رعونت بھرے لہجے میں کہا تھا کہ ” نیب کی کیا مجال کے مجھے گرفتار کرے گی “۔ آج نیب کے ہاتھوں اپنی گرفتاری کے بعد یقینا آصف زرداری کو اپنے یہ الفاظ یاد آرہے ہونگے۔ آصف زرداری کے گرفتار ہونے کے بعد جعلی بینکس اکاونٹس کے مقدمے میں فریال تالپور منگل کو جبکہ ائند چند روز میں بلاول زرداری اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں کیونکہ ان مقدمات میں یہ بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کا جواز پیدا ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی ، سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن اور دیگر کو نیب پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی کے لوگوں کی جانب سے فوری کوئی سخت ردعمل بھی دیکھنے میں نہیں آیا لیکن پیپلز پارٹی نے منگل کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے ۔ بعض علاقوں میں دکانیں بند کرائے جانے کی اطلاعات ملی تھیں۔ آصف زرداری کو گرفتار کیے جانے کے بعد اپوزیشن کیا کرے گی؟ ، اس جواب کے سب ہی منتظر ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ججز کے خلاف صدر مملکت کے ریفرنس کے بعد وکلا کے احتجاج کے لیے خود پاکستان بار کونسل کی لاتعلقی سے بھی حکومت کے خلاف کسی بڑے احتجاج کے پروگرام بھی مشکوک ہوچکے ہیں۔