بجٹ آج پیش ہوگا،مشکل فیصلے نہ کئے تو ملک دیوالیہ ہوجائیگا،امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا،مشیر خزانہ

106

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے اقتصادی جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا اعتراف کرلیا۔ پیر کو اسلام آباد میں اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ امیرطبقہ ٹیکس نہیں دیتا، معیشت کو خطرات لاحق ہیں، مشکل فیصلے نہ کیے تو پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا، 2روز میں بڑے فیصلے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر اور قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، 2سال میں زرمبادلہ کے ذخائر18ارب ڈالرسے کم ہوکر 9ارب ڈالر رہ گئے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی تاریخ کی بلندترین سطح پر 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے بقول ہم ادھر ادھر سے ڈالر لے کرملک کو خوشحال نہیں بناسکتے ، ہمیں سرمایہ کاروں کو پاکستان لانا ہوگا،معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے درآمدات پر کنٹرول کرنا ہوگا‘ درآمد پرڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے ،معیشت کی کمزوریاں ابھر کر سامنے آرہی ہیں اور ہم اگر ٹیکسز جمع نہیں کرسکتے تو اخراجات بھی پورا نہیں کرسکتے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ ڈالرکمانے کی استعداد گزشتہ 10سال میں صفر رہی، گزشتہ 5 برس میں برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، برآمدات 20 ارب ڈالر پر منجمد ہیں،سابق حکومتوں کے قرضوں کا 2 ہزار 900 ارب سود دینا پڑتا ہے ،ماضی کی حکومتوں نے دیگر ذرائع سے بھی 100 ارب ڈالر کے قرضے لے رکھے تھے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ خسارے میں جانے والے ادارے ملکی معیشت پر 1300 ارب روپے کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے سے نہیں نمٹاگیا تو ملکدیوالیہ ہوجائے گا اور اس کا کوئی حل نہیں ہے، وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشکل فیصلے کریں گے تاکہ حالات مستقل بہتری کی طرف جائیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہسب سے پہلے جو فوری خدشات ہیں ان کو دیکھیں اور جو لگژری اشیا ہم باہر سے خرید رہے ہیں اس پر قابو کریں اور جن امیر لوگوں کو اسے خریدنے کا شوق ہے انہیں اس کے اضافہ پیسے دیں۔حفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے 2 سے 3 اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں ایمنسٹی اسکیم بھی شامل ہیں اور اس کے نتائج جون 30 تک سامنے آجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ شبر زیدی کو بہت مشکل سے فیڈرل بیورو آف ریونیو ( ایف بی آر) کا چیئرمین بنوایا گیا۔