متنازع عدالتی فیصلوں کو عوام نے کبھی قبول نہیں کیا،بلاول زرداری

57
اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری پریس کانفرنس کررہے ہیں
اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے نیب کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر کہا ہے کہ متنازع فیصلوں کو عوام نے کبھی قبول نہیں کیا۔ ہم نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کی اس بار بھی کریں گے۔اپنے بیان میں بلاول زرداری نے ہائیکورٹ کی جانب سے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت مسترد کیے جانے پر پیپلز پارٹی کے جیالوں سے پْرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ متنازع فیصلوں کو عوام نے کبھی قبول نہیں کیا۔ ہم نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی کو ثابت کیا ہے اور اس بار بھی کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی جانبدارانہ عدالتی فیصلوں کے باوجود قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔علاوہ ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کا کہنا ہے کہ ہم نے ضیاء ، مشرف اور ایوب کی آمریت کا مقابلہ کیا یہ بزدل اور خوفزدہ حکومت ہمیں نہیں ڈرا سکتی۔آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ یہ نیا پاکستان نہیں سینسر پاکستان ہے۔ ملک کے جمہوری، انسانی اور معاشی حقوق پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ پہلے اسپیکر سندھ اسمبلی کے گھر پر حملہ ہوا، سندھ کے کارکنوں پر اسلام آباد میں تشدد کیا گیا، قومی اسمبلی کے ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا گیا اور گرفتار ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے گئے، عدلیہ پر سازش کے تحت حملہ کیا گیا، آج سابق صدر آصف زرداری کے ساتھ جو ہوا سب کے سامنے ہے۔بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ جتنے بھی سنگین الزام ہوں پاکستان کے ہر شہری کا فیئر ٹرائل ہو، ہر شہری کو آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہے لیکن آج پھر سے فیئر ٹرائل انڈر مائن کیا گیا۔ نیب کی ٹیم بنا عدالتی فیصلے کے آصف زرداری کو گرفتار کرنے آئی۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی بھی جانبدار ہیں۔ قومی اسمبلی کے دوسرے اجلاس میں بھی مجھے بولنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔مجھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بولنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ جو رویہ ضیاء الحق اور مشرف کی اسمبلی میں نہیں دیکھا وہ نئے پاکستان کی اسمبلی میں دیکھ رہے ہیں۔ میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے رویے کی مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفا دیں۔بلاول کا کہنا تھا کہ آمرانہ دور کی طرح آج بولنے کی اجازت ہے نہ عدلیہ آزاد فیصلے کر رہی ہے۔ اسپیکرقومی اسمبلی سے پوچھنا تھا کہ تشدد کی دھمکیوں سے کیسے ڈرائیں گے؟ تشدد، جیلوں اور موت سے اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے؟۔