آئی پی پیز کرپشن کیس میں سابق ڈی جی نیپرا گرفتار

70

لاہور(نمائندہ جسارت)قومی احتساب بیورو (نیب) لاہورکی جانب سے ملکی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اسکینڈل کو منظر عام پر لاتے ہوئے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میںآئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کے کیس میں جاری تحقیقات کے دوران ٹھوس شواہد کے حصول پر سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)سید انصاف احمد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ملزم سید انصاف احمد کی جانب سے دانستہ طور پر بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نشاط چونیاں پاور لمیٹیڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کیے جس کی بدولت حکومتی خزانے کو 8ارب روپے کا نقصان پہنچا۔یاد رہے کہ نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کی جانب سے 2010ء میں 200میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی جبکہ مذکورہ پلانٹ انتظامیہ سے کیے گئے معاہدے کے مطابق تا حال17 ارب روپے بجلی کی پروڈکشن کاسٹ کی مد میں ادا بھی کیے جا چکے ہیں تاہم دیگر شریک ملزمان سے ملی بھگت کے ذریعے 8ارب روپے کی اضافی رقم غیر قانونی طور پر نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کو منتقل کی گئی۔آئی پی پیز سے ہونے والے معاہدوں میں اختیارات کے ناجائزاستعمال،مبینہ جعلسازی اور دھوکا دہی سے غیر قانونی ٹیرف مقرر کیے گئے جس کی مد میں اربوں روپے کی زاید رقم مبینہ طور پر آئی پی پیز کو ادا کی۔نیب لاہور آئی پی پیز میں مبینہ بدعنوانی کے دیگر 5 مقدمات کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس میں گاہے بگاہے اربوں روپے مالیت کے غبن کے شواہد حاصل ہو رہے ہیں۔مذکورہ میگا کرپشن کیس میں جاری تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ماضی میں آئی پی پیز کو غیر قانونی ادائیگیوں کا براہ راست اثر بجلی کے نرخ اور ملکی معاشی حالات پر ہوا جبکہ اداروں کی آپس کی ملی بھگت عوام اور حکومت دونوں کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا موجب بنی۔ نیب لاہور حکام سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے(آج) منگل کواحتساب عدالت لاہور کے روبرو پیش کریںگے،جہاں ملزم کے14روزہ جسمانی ریمانڈ کے حصول کی استدعا کی جائے گی تاہم دوران تفتیش ملزم سے دیگر شریک ملزمان کے حوالے سے اہم انکشافات اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔