جعلی اکاؤنٹس کیس:آصف زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

162

احتساب عدالت نے جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

سابق صدرآصف زرداری کو احتساب عدالت میں پیشی کے لیے نیب راولپنڈی کے دفتر سے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کے روبرو پیش کیا گیا۔ نیب نے آصف زرداری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ بینک حکام کی معاونت سے جعلی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ملزم کو گرفتار کیا ہے تفتیش کے لئے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا زرداری کو کن بنیادوں پر گرفتار کیا ہے؟ پہلے یہ بتائیں۔سردار مظفر عباسی نے آصف زرداری کی گرفتاری کی بنیاد پڑھ کر سنائی۔نیب نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے لیے شواہد عدالت میں پیش کردیےاور کہا کہ انکی گرفتاری کے لیے 8 ٹھوس گراؤنڈز ہیں۔بادی النظر میں آصف زرداری نے جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشن کرکے غیرقانونی آمدن کو جائز کرنے کا منصوبہ بنایا۔ آصف زرداری نے فرنٹ مین اور بےنامی داروں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس کراچی کی عدالت سے اس عدالت کو منتقل ہوا،اس عدالت نے آصف زرداری کے مچلکے وصول کیے۔جب کیس اس عدالت میں ہے تو کیا چیئرمین نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ وارنٹ گرفتاری جاری کرے؟۔

انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب کے پاس انکوائری اور تفتیش کے دوران گرفتاری کا اختیار ہوتا ہے،اس کیس میں وہ وقت گزر چکا اب ریفرنس دائر ہو چکا ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کو تفتیش کے لئے دو ماہ کا وقت دیا۔سپریم کورٹ سے ہمیں کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ نے مدت میں توسیع کی ہے۔ہمیں تاحال وارنٹ گرفتاری اور گرفتاری کی وجوہات فراہم کی گئیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آصف زرداری کو گرفتار کر کے نیب نے اس عدالت کی توہین کی ہے۔اس کیس میں دیگر ملزمان کے مچلکے عدالت نے منظور کیے ان کے وارنٹ جاری نہیں کیے گئے،یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، قانون کہتا ہے کہ تمام ملزمان سے برابری کی بنیاد پر سلوک کیا جائے۔اس کیس کے مرکزی ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا، میرے موکل پر تو صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا الزام ہے۔عدالت آصف زرداری کے ورانٹ گرفتاری کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد ازاں سناتے ہوئے جعلی بنک اکاوئنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

آصف زرداری نے نیب حوالات میں اضافی سہولیات کی درخواست دائر کر دی۔آصف زرداری نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایک ذاتی خدمت گزار ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائےاورمیڈیکل کی بھی تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔

آصف زرداری نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ شوگر کے مریض ہیں اور رات کو انکی شوگر لو ہو جاتی ہے، اٹینڈنٹ دیا جائے جو رات کو شوگر چیک کرے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ ان کی زندگی کا مسئلہ ہے اور ہمارا اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں، اس عدالت کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔آصف زرداری نے کہا اٹینڈنٹ 24 گھنٹے انکے پاس بیٹھا نہیں رہے گا جب ضرورت ہو گی تو اس کو بلایا جائے گا۔