ہم اداروں سے بڑھ کر ریاست کے وفادارہیں،مولانافضل الرحمن

58

ڈیرہ اسماعیل خان(صباح نیوز)جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے قومی معاملات پر تمام ریاستی اداروں کومشترکہ بیانیے کی پیشکش کر دی ۔ انتہا پسندی کے خلاف گھساپٹابیانیہ ناکا م ہوچکاہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرامریکا پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا اور ہماری اسٹیبلشمنٹ امریکی پالیسیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ۔ حکومت کے خلاف آخری وارکی تیاری کر رہے ہیں ۔ کٹھ پتلی ناجائز حکومت کوکسی صورت جائز نہیں قراردے سکتے ۔بدمعاشوں کے خلاف استعمال ہونے والے قانون کو مدرسوں اورعلما کرام کے خلاف استعمال کیاجارہاہے ۔ انتظامیہ کو خبردارکرتاہوں کہ وہ یہ حربے ترک کردے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے اتوارکو ڈیرہ اسماعیل خان میں عیدملن پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرسینیٹرمولاناعطا الرحمن ،مولانالطف الرحمن ، چودھری اشفاق سمیت وکلا ، صحافی ، معززین علاقہ اورجے یوآئی کے عہدیداران وکارکنان موجودتھے۔مولانافضل الرحمن نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے یہ پالیسی قطعاًپاکستان کے مفاد میں نہیں تھی ۔ پالیسیاں امریکا بنارہاتھا اورعمل درآمدکی ذمے داری ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ذمے عاید کی گئی ۔ مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ہم محفوظ قوم نہیں ہیں، تبدیلی کے لیے کام کررہے ہیں ۔ دوٹوک الفاظ میں کہناچاہتاہوں کہ دہشت گردی اوراس کابیانیہ فرسودہ ہوچکاہے ۔ریاست کے لیے حقائق کے مطابق بیانیہ جاری کرناہوگا ہم اس کے لیے تعاون کرنے کو تیارہیں ۔ ہم سب ایک صفحے پر آناچاہتے ہیں۔ پاکستان پرامریکا کا قبضہ نہیں ہونے دیں گے اس کے لیے ہمیں امریکا کی کوئی پروا نہیں ہے۔اگرافغانستان کی حکومت کو کٹھ پتلی کہتے ہواوراس کے خلاف جہاد جائز ہے توپاکستان میں بھی کٹھ پتلی حکومت ہے جسے ہم کبھی بھی جائز قرارنہیں دے سکتے ۔ نام نہاد تبدیلی کے خلاف جنگ اورجہاد کریں گے ۔ سیاسی جماعتوں کو شروع ہی سے مشورہ دیاتھاکہ حکومت سازی کے عمل کا حصہ نہ بنیں ۔انہوں نے کہا کہ اداروں سے یہ بھی کہناچاہتاہوں کہ دہشت گردی دوبارہ سراٹھارہی ہے۔ بھتا خوری ، اغوابرائے تاوان کے واقعات ہورہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو خود کو منظم کرناہوگا۔