ذمے دار سب ہی ہیں

95

حکومت کی جانب سے جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے خلاف ریفرنس داخل کرنے اور اس کی سماعت کے موقع پر 14 جون کو ملک بھر کے وکلا نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ وکلا نے عدالتوں کی کارروائی کے بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی احتجاجی تحریک کا اعلان کر رکھا ہے۔جمہوریت میں یہ سب کام ہوتے ہیں، احتجاج، اختلاف، بائیکاٹ وغیرہ سب ہوتے ہیں اور اس سے نمٹنا اور مسائل کو حل کرنا حکومتوں کا کام ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں صورت حال بڑی دلچسپ ہے۔ جو لوگ آج حکومت میں ہیں ان کا موقف وہی ہے جو ماضی کے حکمرانوں کا ہوتا تھا۔ اس کی مثال یوں لے لیں کہ نواز شریف حکومت قائم ہوتے ہی پی ٹی آئی کی قیادت نے احتجاجی تحریک شروع کردی تھی۔ لاہور سے نکلے اور اسلام آباد زیرو پوائنٹ ڈی چوک اور پھر پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ تک پہنچ گئے۔ وہاں 125 دن تک کیا ہوا یہ دہرانے کی بات نہیں یا اس کی ضرورت نہیں، کیوں کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کی تاریخ بتانے والے بار بار یہی بتارہے ہیں کہ ہم نے کامیابی کیسے حاصل کی۔ لیکن چوں کہ حکومت اور اپوزیشن میں آنے کے بعد موقف میں تبدیلی آئی ہے، لہٰذا 125 دن کنٹینر پر گزارنے والے پی ٹی آئی کے اوپننگ کھلاڑی شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ سڑکوں پر اور کسی چوک پر کھڑے ہو کر احتجاج سے اگر مہنگائی سے جان چھوٹتی ہے تو شوق سے احتجاج کریں۔ انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ اس طرح کے احتجاجوں سے سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ پی ٹی آئی اور اب حکومت کے اہم نمائندے کا یہ کہنا بالکل بجا ہے احتجاجوں سے یہی ہوتا ہے۔ جب پی ٹی آئی کے سربراہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر اعلان کررہے تھے کہ بجلی کے بل ادا کرنا بند کردو، ٹیکس بند کردو، پیسہ ہنڈی سے بھیجو۔ اس وقت نواز شریف اور ان کی ٹیم کہتی تھی کہ احتجاجوں سے سرمایہ کاری رک جاتی ہے، ترقیاتی عمل میں خلل پڑتا ہے، گویا اس بات پر تو حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے ہے کہ احتجاجوں سے یہی اثرات ہوتے ہیں۔ جب نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج ہورہا تھا تو یہی بات وفاقی حکومت کی جانب سے کہی گئی تھی۔ چینی وزیراعظم کا دورہ بھی متاثر ہوا تھا جو سی پیک کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ کئی کانفرنسیں بھی متاثر ہوئیں، دنیا بھر میں مذاق بنایا گیا کہ عدالت عظمیٰ کے احاطے میں کپڑے دھو کر لٹکائے گئے، پارلیمنٹ ہائوس میں ڈنڈا بردار داخل ہوگئے۔ اگر لاہور میں گلو بٹ ڈنڈے لیے گھوم رہا تھا تو اسلام آباد میں بھی گلوبٹ گھوم رہے تھے۔ جسارت نے ان ہی کالموں میں یہی توجہ دلائی تھی کہ اپوزیشن یا پی ٹی آئی چوک پر مسائل حل کرنے کی روایت نہ ڈالے، کل کو اسے بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوگا اور آج وہ اسی صورت حال کو بھگت رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں اچھے خاصے نظام کو چلنے کیوں نہیں دیتیں اور احتجاج تک بات کیوں جاتی ہے اور سڑکوں پر مسائل کیوں لے آتی ہیں۔ یہ بھی ایک قابل غور بات ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد وہی سیاسی جماعتیں جو احتجاج کرتی تھیں، احتجاج کے اسباب پیدا کرنے میں مصروف ہوجاتی ہیں اسی لیے یہ احتجاجی سیاست شروع ہوجاتی ہے۔ اب پی ٹی آئی بھی اسی مقام پر پہنچ چکی ہے جس پر پہلے مسلم لیگ تھی۔ حکومت چلانے والوں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہی درست ہے اور خرابی یہی ہے۔ کیوں کہ اپوزیشن کا خیال ہے کہ جو وہ کہہ رہی ہے وہ درست ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ دونوں کا موقف درست ہو، اسی رویے کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ سراج الحق جیسے معتدل رہنما نے بھی احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا ہے۔ تازہ معاملے کو حکومت ابو بچائو تحریک قرار دے رہی ہے، یعنی نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کو بچانے کے لیے ان کی اولادیں میدان میں آگئی ہیں۔ جب کہ اپوزیشن کا موقف یہ ہے کہ حکومت احتساب سے آگے بڑھ کر انتقامی کارروائی کررہی ہے اور نیب، ایف آئی اے اور مختلف ادارے عدالتوں کے بعض فیصلے بھی اس کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔ وفاقی وزرا اور پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو بھی صرف نواز شریف خاندان اور زرداری خاندان کے خلاف تقریروں سے فرصت نہیں۔ یہ رویہ احتجاجوں ہی کی طرف لے جانے والا ہے۔ حکومت کی طرف بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور تینوں ابوئوں کے سارے معاملات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ نیب کی ملک بھر میں فعالیت حد سے زیادہ ہے اور کے پی کے میں وہ سوتی نظر آتی ہے۔ نواز شریف اور زردرای کے حوالے سے کسی نے کبھی ملاقات بھی کی ہو تو اسے بھی نیب کے دائرے میں لایا جاتا ہے اور دوسری طرف علیم خان اور علیمہ بہن کے لیے تمام دروازے کھلتے جارہے ہیں اور جہانگیر ترین اور دوسرے اہم لوگوں کی جانب تو کسی ادارے کا رُخ ہی نہیں ہوتا۔ اس وقت ملک میں جو صورت حال ہے اس کے مطابق تمام ادارے ایک پیج پر قرار دیے جارہے ہیں لیکن وہ پیج نواز شریف اور زرداری کے خلاف مہم ہے اس مہم نے ان دونوں لیڈروں کی غلطیوں اور جرائم ان کو مظلومیت کا عنوان بنا دیا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی نے الیکٹ ایبلز کے ذریعے تعداد تو پوری کرلی ہے لیکن عوامی سطح پر واپسی کا سفر شروع ہوگیا ہے، اگر کسی خفیہ یا خلائی مخلوق کی سرپرستی نہ ہو تو ایک سال قبل کے کرپٹ قرار دیے گئے لوگ ایک بار پھر پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے یہ الزام صرف اپوزیشن پر نہیں لگنا چاہیے کہ احتجاج سے ترقی اور سرمایہ کاری رُک جاتی ہے بلکہ اس وقت حکومت، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی ذمے داری ہے کہ قانونی اداروں کو اپنا کام کرنے دیں اور خود سر جوڑ کر بیٹھیں کہ ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں ترقی کا عمل اور سرمایہ کاری بڑھنے اور رکنے کے حکومت اور اپوزیشن یکساں طور پر ذمے دار ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اور نیب کے چیئرمین کے خلاف اسکینڈل کے حوالے سے بھی تضادات سامنے ہی ہیں، پھر وکلا احتجاج نہیں کریں گے تو اور کیا ہوگا۔ اس سارے فساد اور تباہی کی ذمے داری حکومت، اپوزیشن اور میڈیا پر ہے۔