اینٹی بایوٹک ادویات… کیسے نقصان دہ ہے؟ سائنس دان کے نزدیک یہ صدی کاپریشان کن مسئلہ ہے

222

فاطمہ عزیز

جیسے جیسے دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے ویسے ویسے نئی نئی ایجاداد سامنے آتی جارہی ہیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اور دنیا میں جتنی مشکلات ہیں ان سے نمٹنے کا حل نکالنا بلاشبہ انسان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ انسان دنیا میں موجود اشیا کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایسی ہی ایک ایجاد اینٹی بائیوٹک (Antibiotic) ہے۔ انسان کی عقل کے حیرت انگیز کمالات دیکھیں کہ جو جرثومے ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں ان سے لڑنے کے لیے انسان اپنے جسم میں اُسی طرح کے جرثومے کم مقدار میں داخل کرتا ہے جو کہ جسم میں جا کر انسان کی قوت مدافعت کو تیار کرتے ہیں کہ ہم نقصان دہ ہیں۔ ہم سے بچ کر رہو یا پھر ایک طرح کے جراثیم دوسری طرح کے نقصان دہ جراثیم کو مارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹک اٹھارویں صدی کی ایجاد ہے۔ ایک دور تھا جب انسان چھوٹی چھوٹی بیماریوں مثلاً بخار آنے، انفیکشن ہوجانے سے، نزلہ زکاان جیسے چھوٹے امراض میں مبتلا ہوجانے سے مرجاتے تھے پھر اینٹی بائیوٹک ایجاد ہوئی اور انسان کی ایک بڑی مشکل کا حل نکلا۔
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں مصر اور یورپ کے لوگ باسی Fugus لگی ہوئی روٹی کو زخموں میں رکھتے تھے، اصل میں اینٹی بائیوٹک سب سے پہلے ایجاد کی گئی وہ پینسلین (Penicillin) تھی جو کہ Fugus سے نکالی گئی تھی پھر طرح طرح کی Algae اور Gugas سے جرثومے نکالے گئے۔ لیکن کسی بھی چیز کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک بھی ایک ایسی ہی ایجاد ہے فی زمانہ تمام ڈاکٹرز چھوٹے چھوٹے امراض مثلاً نزلہ زکام، کھانسی میں بھی بھاری اینٹی بائیوٹک لکھ کر دے دیتے ہیں جبکہ باہر ملکوں میں اگر آپ کو بخار آتا ہے تو آپ کو دو دن انتظار کرنا ہے شاید کہ آپ کا مدافعاتی نظام بخار سے لڑنے کا اہل ہو اگر آپ پھر بھی ٹھیک نہ ہوپائیں تو آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں جو کہ آپ کے خون کا ٹیسٹ کروائے گا اور بعض صورتوں میں رپورٹس آنے تک آپ کو بخار کی گولی کھانے کا مشورہ دے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا آپ کے فائدے کے لیے کرتا ہے تو جی ہاں بالکل۔ کچھ لوگ ڈاکٹر کے پاس سے خالی ہاتھ آجانے پر غصے میں آجاتے ہیں کہ اتنے پیسے دیے اور کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ ظاہر ہے کون انسان نہیں چاہتا کہ وہ یا اس کا بیمار بچہ جلد صحت یاب ہوجائے مگر اینٹی بائیوٹک دینے کے لیے ضروری ہے کہ خون کے ٹیسٹ سے یہ معلوم ہو کہ آپ کے جسم میں کون سا جرثومہ موجود ہے اور آپ کو کون سی خاص اینٹی بائیوٹک دینی ہے یا دینی بھی چاہیے یا نہیں۔ یہ سب آپ کو خون کا ٹیسٹ کرانے سے معلوم ہوگا جو زیادہ تر افراد نہیں کروانا چاہتے۔ یہاں کا رواج ہے کہ ڈاکٹرز چھوٹے چھوٹے بچوں کو 3rd Generation (تیسری نسل کی) اینٹی بائیوٹک دے دیتے ہیں جو کہ بہت ہیوی انفیکشنز سے لڑنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اگر ڈاکٹرز ایسا نہ کریں تو مریض خود فرمائش کردیتے ہیں کیوں کہ وہ بخار سے لڑنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے ہیں۔ اپنے جسم کو وقت ہی نہیں دیتے کہ وہ اپنی قوتِ مدافعت کو تیز کرے۔ کچھ مریض تو اتنے عادی ہوتے ہیں کہ بغیر ڈاکٹر کے پاس جائے خود ہی اینٹی بائیوٹک پھانکنا شروع کردیتے ہیں۔ بعد میں جب معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری تو اینٹی بائیوٹک سے ٹھیک ہونے والی نہیں تو پریشان ہوجاتے ہیں۔ کسی سیانے نے اسی بات پر سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی تھی کہ ’’بخار آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے اندر (Cefteixone) اینٹی بائیوٹک کی کمی ہوگئی ہے‘‘۔
اور سچ بھی ہے کہ آج کل لوگ اینٹی بائیوٹک کو ہاجمولا سمجھ کر پھانک رہے ہوتے ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ اینٹی بائیوٹک سے بخار ٹھیک ہوجائے تو کیا بُرا ہے تو آئیے ہم آپ کو اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال کے نقصان بتاتے ہیں۔
(1) اینٹی بائیوٹک خاص امراض کے لیے خاص ہوتی ہے اور خون کا ٹیسٹ کراکر دی جاتی ہے۔ کچھ امراض ایسے ہیں جو کہ اینٹی بائیوٹک کھانے سے وقتی طور پر دب جاتے ہیں یا بڑھ جاتے ہیں مگر ٹھیک نہیں ہوتے جیسے ملیریا کی دوا اینٹی بائیوٹک نہیں ہے، اسی طرح ٹائیفائڈ یا یرقان میں اینٹی بائیوٹک نقصان کرتی ہے۔
(2) اینٹی بائیوٹک کا زیادہ استعمال آپ کے جگر کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ اس کے اور بھی نقصانات ہیں جیسے پیٹ خراب ہونا، الرجی ہوجانا وغیرہ۔
(3) اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال سے ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ آپ پر کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔
اس مسئلے سے دنیا کے تمام سائنسدان پریشان ہیں جن جراثیم سے لڑنے کے لیے سائنسدان اینٹی بائیوٹک تیار کرتے ہیں وہ ہر سال اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرلیتے ہیں، کہتے ہیں نا کہ تبدیلی زندگی کے لیے اہم ہے اور رواں پانی صاف ہوتا ہے۔ اسی مثال پر قائم رہتے ہوئے جرثومے تیزی سے اپنے آپ کو بدلتے رہتے ہیں۔
پچھلے سال جس جرثومے نے آپ کو نزلہ زکام اور بخار میں مبتلا کیا تھا اس کے پاس ایک حفاظتی دیوار (Boundary Wall) تھی، آپ نے اینٹی بائیوٹک کھائی جس سے یہ دیوار ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، آپ ٹھیک ہوگئے مگر اگلے سال وہ جرثومہ سمجھ دار ہوگیا، وہ آپ پر حملہ کرے گا تو اس کے پاس دو دفاعی دیواریں ہوں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو نظام عطا کیا ہے اب آپ اُس اینٹی بائیوٹک سے ٹھیک نہیں ہوپائیں گے جس سے پچھلی دفعہ ہوگئے تھے۔ آپ اس بات کو اس طرح لے لیں کہ ہر دور کے بچے سمجھ دار ہوتے ہیں، اِسی طرح جرثومے بھی زیادہ سمجھ دار ہوجاتے ہیں۔
سائنسدان جرثوموں کی اس حرکت سے سخت نالاں ہیں، ان کو ہر سال ہر جرٖثومے کے لیے ایک الگ اینٹی بائیوٹک بنانی پڑتی ہے جس میں بہت وقت اور پیسہ لگتا ہے مگر پھر وہ کچھ عرصے میں پرانی اور بیکار ہوجاتی ہے، اب تو سائنسدن اتنے پریشان ہوچکے ہیں کہ کوئی بھی اینٹی بائیوٹک پر کام نہیں کرنا چاہتا کہ یہ ایک بیکار عمل ہے ابھی وہ نئی دوا ایجاد کریں گے اور ابھی جرثومے اتنے تیز ہوجائیں گے کہ اُن پر اس کا اثر نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ امریکا اس مسئلے پر کام کرنے والوں کو پیسے دینے پر بھی تیار ہے۔ دوسری طرف انسان اینٹی بائیوٹک اتنی وافر مقدار میں استعمال کررہا ہے کہ اس کے اوپر ہلکی دوا اثر نہیں کرتی، پھر جب ایسے افراد کو کوئی خطرناک بیماری ہوتی ہے تو ان کے اوپر اینٹی بائیوٹک کا کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ایسی ہی ایک بیماری نمونیہ ہے یعنی پھیپھڑوں کا انفیکشن۔ اس بیماری سے لڑنے کے لیے ایک خاص قسم کی اینٹی بائیوٹک استعمال ہوتی ہے جو کہ ہمیشہ کام نہیں کرپاتی۔ دوسری طرف یہ جرثومہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، ایک سے دوسرے کو لگ جاتا ہے اور اسپتالوں میں تو جو شخص بھی ایڈمٹ ہے وہ چاہے کسی مرض میں ہو اس کو ضرور یہ جرثومہ لگ جائے گا، اس لیے اسپتال میں داخل افراد کو ضروراً نمونیہ سے لڑنے کے لیے اینٹی بائیوٹک دی جاتی ہے مگر پھر بھی ہزاروں کی تعداد میں بچے اور بوڑھے اس مرض کی وجہ سے روزانہ فوت ہوجاتے ہیں کیونکہ ان میں نمونیہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہوتی۔
دنیا بھر میں ڈاکٹرز اس مرض نمونیہ سے پریشان ہیں، وہ ہر مرض کا، بڑی بڑی بیماریوں کا علاج کرلیتے ہیں مگر پھر یہ چھوٹا مرض مریض کی جان لے لیتا ہے کیونکہ اس کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔ CDC سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول کے مطابق یہ اس دور کا سب سے پریشان کن مسئلہ ہے۔