مسنوناتِ عید اور ہماری صورتحال مفتی عبدالرؤف

138

عید الفطر کا دن مسلمانوں کے لیے بڑی مسرت اور خوشی کا دن ہے اور یہ خوشی اس بنا پر ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے رمضان شریف کے روزے رکھنے کی توفیق بخشی اور شب میں تراویح ادا کرنے اوراس میں کلام ِالٰہی پڑھنے اور سننے کی سعادت عطا فرمائی، حق تعالیٰ کے نزدیک عید کا دن اور عید کی رات دونوں ہی بہت مبارک اور بڑی فضیلت والے ہیں، جس کا اندازہ آپ کو اس حدیث سے ہوگا۔
عید اور شب ِعید کی خاص فضیلت
سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اقدسؐ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جنت کو رمضان شریف کے لیے خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی ہے اور شروع سال سے آخر سال تک رمضان کی خاطر آراستہ کیا جاتا ہے، پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے، جس کا نام مثیرہ ہے، جس کے جھونکوں کی وجہ سے جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں، جس سے ایسی سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی، پس خوش نما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالاخانوں کے درمیان کھڑے ہو کر آواز دیتی ہیں کہ کوئی ہے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں ہم سے منگنی کرنے والا، تاکہ حق تعالیٰ شانہ اس کو ہم سے جوڑ دیں؟ پھر وہی حوریں جنت کے داروغہ رضوان سے پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی رات ہے؟ وہ لبیک کہہ کر جواب دیتے ہیں کہ رمضان شریف کی پہلی رات ہے، جنت کے دروازے محمدؐ کی امت لیے آج کھول دیے گئے، حضورؐ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ رضوان سے فرما دیتے ہیں کہ احمد مجتبیٰؐ کی امت کے روزے داروں پر جہنم کے دروازے بند کردو اور جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو اور گلے میں طوق ڈال کر دریا میں پھینک دو کہ میرے محبوب محمدؐ کی امت کے روزں کو خراب نہ کریں۔
نبی کریمؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان کی ہر رات میں ایک منادی کو حکم فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ یہ آواز دے کہ ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کون ہے جو غنی کو قرض دے ایسا غنی جو نادار نہیں؟ ایسا پورا پورا ادا کرنے والا جو ذرا بھی کمی نہیں کرتا؟ نبیؐ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہوچکے تھے اور جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کیے گئے تھے ان کے برابر اسی ایک دن میں آزاد فرماتے ہیں اور جس رات شب قدر ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ جبرئیلؑ کو حکم فرماتے ہیں وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں، ان کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے، جس کو کعبہ کے اوپر کھڑا کرتے ہیں اور جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سو بازو ہیں، جن میں سے دو بازؤں کو صرف اسی رات میں کھولتے ہیں جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں، پھر جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں کہ جو مسلمان آج کی رات میں کھڑا ہو یا بیٹھا ہو، نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کر رہا ہو، اس کو سلام کریں اور مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہیں، صبح تک یہی حالت رہتی ہے، جب صبح ہو جاتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام آواز دیتے ہیں کہ اے فرشتوں کی جماعت! اب کوچ کرو اور چلو! فرشتے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے احمد مجتبیٰؐ کی امت کے مؤمنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیا معاملہ فرمایا؟ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا۔
صحابہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! وہ چار شخص کون ہیں؟ ارشاد ہوا کہ: ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو، دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو، تیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو، چوتھا وہ شخص جو کینہ رکھنے والا اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو۔
پھر جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر ’’لیلۃ الجائزہ‘‘ انعام کی رات سے لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں، وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں: اے محمدؐ کی امت! اس کریم رب کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے، پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں: کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ: ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے! تو حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ: اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں، میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اورمغفرت عطا کر دی! اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ: اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزت کی قسم، میرے جلال کی قسم! آج کے دن اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگے عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا، میری عزت کی قسم! جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا اور ا ن کو چھپاتا رہوں گا، میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا، پس فرشتے اس اجر وثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو افطار کے دن ملتا ہے، خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔
حق تعالیٰ کی اس ذرّہ نوازی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم ان کے اور زیادہ فرمانبردار اور اطاعت شعار بندے بنتے، تاکہ اور زیادہ اطاعت پر زیادہ رحمتوں اور برکتوں کے حق دار ہوتے۔ لیکن افسوس ہلال عید نظر آتے ہی ہم نے ایسا رخ پلٹا اور ایسے نکلے اور نظریں پھیریں کہ پیچھے مڑ کر ہی نہ دیکھا اور اتنی دور نکل گئے کہ مرکز ہی کو بھول گئے اور ایسے ایسے کاموں کا ارتکاب کیا کہ جن سے بجائے موردِ رحمت بننے کے حق تعالیٰ کی ناراضگی غصے اور عذاب کا مورد بننے لگے، عیدالفطر کی شب اور اس کا دن انعامات ِالٰہی کی وصولی اور خوشنودی حاصل ہونے کا مبارک موقع ہے، ہم نے اس کو ان کی ناراضی کا سبب بنانے میں کون سی کسر نہ چھوڑی اور تعجب یہ ہے کہ ہم ایسی باتوں کو گناہ بھی نہیں سمجھتے، جو اور بھی خطرناک بات ہے، یہاں ذیل میں کچھ ایسی ہی چند باتیں عرض کرتا ہوں، صرف اس امید پر کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ توجہ سے ان باتوں کو پڑھے اور اسے توفیق عمل ہو جائے، حق تعالیٰ ہم سب کو ان منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین
عید کی تیاری
ایک فتنہ عید کی تیاری کا ہے، جو عید الفطر میں زیادہ اور بقر عید کے موقع پر کچھ کم برپا ہوتا ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے بلاشبہ مسرت کا دن قرار دیا اور اتنی بات بھی شریعت سے ثابت ہے کہ اس روز جو بہتر سے بہتر لباس کسی شخص کو میسر ہو وہ لباس پہنے، لیکن آج کل اس غرض کے لیے جن بے شمار فضول خرچیوں اور اسراف کے ایک سیلاب کو عیدین کے لوازم میں سمجھ لیا گیا ہے، اس کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آج یہ بات فرض واجب سمجھ لی گئی ہے کہ کسی شخص کے پاس مالی طور پر گنجائش ہو یا نہ ہو، لیکن وہ کسی نہ کسی طرح گھر کے ہر فرد کے لیے نئے سے نئے جوڑے کا اہتمام کرے، گھر کے ہر فرد کے لیے جوتے ٹوپی سے لے کر ہر چیز نئی خریدے، گھر کی آرائش وزیبائش کے لیے نت نیا سامان فراہم کرے، اور ان تمام امور کی انجام دہی میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ایک متوسط آمدنی رکھنے والے شخص کے لیے عید اور بقر عید کی تیاری ایک مستقل مصیبت بن چکی ہے، اس سلسلے میں وہ اپنے گھر والوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے جب جائز ذرائع کو ناکافی سمجھتا ہے تو مختلف طریقوں سے دوسروں کی جیب کاٹ کر وہ روپیہ فراہم کرتا ہے، تاکہ ان غیر متناہی خواہشات کا پیٹ بھر سکے، اور اس عید کی تیاری کا کم سے کم نقصان تو یہ ہے ہی کہ رمضان اور خاص طور سے آخری عشرہ کی راتیں اور اسی طرح بقر عید کے پہلے عشرہ کی راتیں بالخصوص بقر عید کی شب جو گوشۂ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے عرض ومناجات اور ذکر وفکر کی راتیں ہیں وہ سب بازاروں میں گذرتی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آخری دس دن اوران کی راتیں، عید اور شب ِعید بڑی مبارک ہیں اورآخرت کمانے کا بہترین سیزن ہے، بندۂ مؤمن جس کی زندگی کا مقصد صرف حق تعالیٰ کی رضا اور حصولِ جنت ہے اس کے لیے یہ بہت ہی نادر موقع ہے، جو حق تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے عطا فرمایا ہے، ان ایام اور مبارک لیل ونہار کو بے حد غنیمت سمجھا جائے اور ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق ان ایام میں زیادہ سے زیادہ عبادت وطاعت، ذکر وتلاوت، تسبیح ومناجات اور توبہ واستغفار کرنے کااہتمام کرنا چاہیے اور زیادہ نفلی عبادت وطاعت نہ کرسکے تو کم از کم مذکورہ بالا اور دیگر گناہوں سے تو اپنے کو دور ہی رکھے اور تمام رات کوئی نہ جاگ سکے تب بھی کچھ حرج نہیں، آسانی اور بشاشت کے ساتھ جتنی دیر جاگ کر عبادت کرسکے اتنا ہی کر لے۔
عید کے دن بارہ چیزیں مسنون ہیں:
1)اپنی آرائش کرنا 2)غسل کرنا 3)مسواک کرنا 4)عمدہ سے عمدہ کپڑے جو پاس موجود ہوں وہ پہننا 5)خوشبو لگانا 6)صبح سویرے اٹھنا 7)عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر دے دینا 8)عید گاہ میں بہت سویرے جانا 9)عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز مثلاً چھو ہارے وغیرہ کھانا 10)نماز عید گاہ میں جاکر پڑھنا اور عید گاہ سے واپسی پر دوسرا راستہ اختیار کرنا 11)پاپیادہ جانا 12)راستے میں اللہ اکبر اللہ اکبرلا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھنا، جہاں عید کی نماز پڑھی جائے وہاں نماز سے پہلے اور بعد کوئی اور نماز پڑھنا مکروہ ہے، نماز عید کے لیے عید گاہ جانا سنت ِمؤکدہ ہے، نبی کریمؐ اپنی مقدس مسجد کو انتہائی فضیلت کے باوجود عیدین کے دن چھوڑ دیتے تھے اور عید گاہ تشریف لے جاتے تھے۔
عید الفطر کی نماز کا طریقہ:
عید الفطر کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس طرح نیت کرے: میں نے دو رکعت واجب نماز ِعید کی چھ واجب تکبیروں کے ساتھ نیت کی، نیت کے بعد ہاتھ باندھ لے اور سبحانک اللّھم پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور بعد تکبیر کے ہاتھ لٹکا دے اور ہر تکبیر کے بعد اتنی دیر ٹھہرے کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ سکیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکانے کے بجائے باندھ لے اور اعوذباللہ، بسم اللہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھ کر حسب ِ دستور رکوع اور سجدے کرکے کھڑا ہو اور دوسری رکعت میں پہلے سورۃ فاتحہ اور دوسری سورت پڑھ لے، اس کے بعد تین تکبیریں اس طرح کہے جس طرح پہلی رکعت میں کہی ہیں، البتہ دوسری رکعت میں تیسری تکبیر کہنے کے بعد ہاتھ باندھنے کے بجائے لٹکائے رکھے اور پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے۔
شوال کے چھے روزے
نبی اکرمؐ کا ارشاد ہے جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے او راس کے بعد ماہِ شوال میں چھ نفلی روزے رکھے اس کا یہ عمل ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہو گا۔
ایک معمولی محنت پر اتنا بڑا اجر وثواب! اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت ہے اور عمر بھر کے لیے روزے کا ثواب حاصل کرنے کا نہایت آسان اورکم خرچ نسخہ ہے، حق تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں، اس پر مزید آسانی یہ ہے کہ ان کے رکھنے میں اختیار ہے، خواہ شروع شوال میں رکھیں یا درمیان میں یا آخر میں، یہ بھی اختیار ہے خواہ مسلسل رکھیں یا متفرق، شرعاً کسی طرح کوئی پابندی نہیں۔