انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی کامیابی ،ٹیم کا مورال بلند

111

کرکٹ بائی چانس اور کرکٹ ٹورنامنٹس اپ سیٹ کا کھیل ہوتے ہیں ۔ کاغذ اور ریکارڈ کے مطابق جو ٹیم جیسی ہوتی ہے اسی کے مطابق پیشگوئی کی جاتی ہے ۔ یا توقع باندھی جاتی ہے ۔12ویں ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم جائزوں کے تمام معیارات کے اعتبار سے کسی نمبر پر نہیں ہے اسی طرح بنگلا دیش اور سری لنکا بھی ان معیارات کے اعتبار سے اچھی ٹیموں میں شمار نہیں ہو رہے لیکن جس طرح بنگلا دیش نے جنوبی افریقا کے خلاف عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اورجنوبی افریقا کی بدقسمتی، بیٹنگ میں ہاشم آملا اور بولنگ میں ڈیل اسٹین زخمی ہونے کی وجہ سے نہیں تھے جبکہ ڈی ویلیئر کے کپتانی سے ہٹنے کے نتیجے میں بھی جنوبی افریقا کو نقصان ہوا ہے ۔ ورلڈ کپ تجربات نہیں مانگتا بلکہ ورلڈ کپ کے تجربات ہوتے ہیں ڈوپلیسی چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرتے کرتے اچانک تیسرے پر آ گئے ۔ یہی کچھ پاکستانی کپتان بھی کر رہے ہیں ۔ بہر حال بنگلا دیش نے بولنگ ، فیلڈنگ میں فائٹنگ اسپرٹ کے ساتھ کھیلا اور کامیابی حاصل کی ۔انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ ایک مرتبہ پھر بہتری کی جانب گامزن ہوئی اور ٹیم نے 348 رنز بنا کر انگلینڈکو 349 کا ہدف دیا اور سخت مقابلے کے بعد پاکستان نے 14 رنز سے یہ میچ جیت لیا ۔ کرکٹ کے کھیل میں یہی محنت درکار ہوتی ہے ۔ ابتداء میں پاکستانی بولنگ نے انگلینڈ کو پریشان کیا ، درمیان میں مضبوط بیٹنگ نے پاکستانی بولنگ کے چھکے چھڑا دیے ، لیکن بالآخر وہی دو کھلاڑی سامنے آئے جن کو بلالیا نہیں جا رہا تھا ۔ یعنی وہاب ریاض اور محمد عامر ان دونوں نے تین اور دو وکٹیں لیں ۔ انگلینڈکی آدھی ٹیم کو ان دو کھلاڑیوں نے آئوٹ کیا ۔یہی دو کھلاڑی پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلوں اور انگلینڈ کے خلاف کامیابی میں فرق ثابت ہوئے ۔ دوسرا بڑا سبب حفیظ کا چل جانا ہے۔ ورنہ وہ اگر اپنی 13رنز کی اوسط پر کھیلتے رہتے تو پاکستان کی کامیابی کا امکان نہیں ہوتا ۔ کامیابی بہر حال کامیابی ہوتی ہے 14رنز کے مارجن سے ورلڈ کپ کی ہاٹ فیورٹ قرار دی گئی ٹیم کو ہرا دینا بھی بڑی کامیابی ہے ۔ پاکستانی ٹیم اور انتظامیہ کو یہ بات بھی سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ کھلاڑیوں سے زیادہ مقابلے کا جذبہ کھیلتاہے ۔ ٹیم میںجذبہ پیدا کرنا انتظامیہ کا کام ہے ۔ دوسری جانب اس کامیابی پر بڑے بڑے دعوے کرنا غلط ہوگا ۔دعوئوںسے میچ نہیںجیتے جاتے بلکہ ایسی ہی پر فارمنس دکھانا پڑتی ہے ۔348 کا اسکور انگلینڈ کی بیٹنگ کے لیے کم تھا ۔محفوظ اسکور 360 ہوتا ۔ انگلینڈ کی غلطیاں پاکستان کی خوش قسمتی ثابت ہوئیں ۔ آنے والے میچز میں امتحان مزید سخت ہو جائے گا۔