کون بنے گا عالمی چیمپئن…؟؟ دس ٹیمیں ایک کپ عالمی کپ کی ٹیموں سے متعلق جسارت کا جائزہ

119

تجزیہ: مظفر اعجاز
ٹیکنیکل تعاون : نوید احمد خان
کرکٹ کا بارہواں ورلڈ کپ شروع ہوگیا۔ دنیا بھر کی دس ٹیمیں اس مقابلے میں شریک ہیں کون سی ٹیم کتنی صلاحیت رکھتی ہے اس کے بارے میں کیا پیشگوئی کی گئی ہے۔ کرکٹ پنڈتوں نے کس کو ہاٹ فیوریٹ قرار دیا ہے اور کس کو ناکام اس سب سے قطع نظر جسارت نے ان ٹیموں کا جائزہ اور ان کی صلاحیتوں کے اعتبار سے ان کی درجہ بندی کی ہے۔ پاکستان کو جسارت نے پہلی چار ٹیموں میں شامل نہیں رکھا ہے اگر سیمی فائنلز میں پہنچ گیا تو یہ معجزہ ہو گا۔لیکن سب سے پہلے اسی ٹیم کا جائزہ شامل ہے۔ اس کے بعد ممکنہ ٹاپ چار ٹیموں کا اور بقیہ ٹیموں کا بھی ہے۔
پاکستان
گزشتہ ورلڈ کپ میں پاکستان آسٹریلیا سے کوارٹر فائنل میں ہارا تھا۔ موجودہ ٹیم بولنگ اور بیٹنگ میں گزشتہ ٹیم سے بہت ہلکی ہے۔ مصباح، یونس، آفریدی بھی شامل نہیں، بولنگ میں عرفان اور راحت بھی نہیں ہیں جو انگلش موسم کے مطابق بیٹسمینوں کو پریشان کرسکتے تھے۔
موجودہ ٹیم میں صرف اوپنگ جوڑی امام الحق اور فخر زمان اچھی جوڑی ضرور ہے لیکن ان کے بعد نیچے کوئی قابل اعتماد کھلاڑی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان دونوں کے رنز بھی بسا اوقات ضائع ہو جاتے ہیں۔ بابر اعظم بڑے اسکور کے چکر میں گیندیں ضائع کردیتے ہیں جو میچ ہاتھ سے نکال دیتا ہے۔ اس کے بعد ملک 13کی اوسط پر ہیں۔ حفیظ مسلسل کھیلنے والے نہیں۔ آصف کو اوور کم ملیں گے۔ گویا چھوٹی ریس کے گھوڑے کے مصداق آٹھ دس اوورز میں تیس رنز ان کے اچھے رنز ہوںگے۔ حارث سہیل بھی میچ وننگ بیٹسمین نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر انہیں لے کر کیوں گئے ہیں۔ اس بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ ورلڈ کپ کی آخری چار ٹیموں میں شامل ہونے کی باتیں فی الحال تو خواب وخیال لگتی ہیں۔ البتہ میدان میں بہت کچھ ہوسکتا ہے تاہم ٹیموں کی پوزیشن ریکارڈ اوسط یہی بتا رہی ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔۔ اس بیٹنگ میں سرفراز وزیر ہے محکمہ کی طرح کسی خاص نمبر کے بیٹسمین نہیں ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی پیشگوئی کی جاسکے سرفراز کو اپنے لیے کوئی نمبر مخصوص کرنا ہوگا۔ مستقل آگے پیچھے نمبر ہونے سے بھی پرفارمنس پر اثر پڑتا ہے۔جیسا کہ عمر اکمل کو کبھی چار کبھی پانچ کبھی 6نمبر پر کھلایا اور فیل قرار دے دیا ۔
بولنگ میں وہاب ریاض کے آنے سے فرق ضرور پڑے گا، محمد عامر اگر چل پڑے تو پاکستانی بولنگ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ عامر کے نہ چلنے کی وجہ سے راحت علی اور شاہین شنواری کی کمی محسوس ہوگی۔ شاداب کی صورت میں اسپنر موجود ہے۔ حفیظ بھی اوورز گزارنے یا پارٹنر شپ توڑنے میں کام آسکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر بولنگ بھی اچھا تاثر نہیں رکھتی۔ اس صورت حال میں تجربہ کار کھلاڑی صرف حفیظ، ملک، سرفراز، وہاب ریاض اور عامر ہیں لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی ٹیم نے کسی ٹیم کے خلاف قابل ذکر پرفارمنس بھی پیش نہیں کی۔
پاکستان کے بعد فیوریٹ ٹیموں کا جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ آسٹریلیا
کارکردگی، کامیابیوں اور بڑے مقابلے کی صلاحیت کے اعتبار سے ہماری نظر میں آسٹریلیااس وقت ٹاپ کی ٹیم ہے۔ کرکٹ کے ماہرین کی نظر میں آسٹریلیا ہاٹ فیوریٹ نہیں ہے بلکہ انہوں نے انگلینڈ کو ہاٹ فیوریٹ رکھا ہے جبکہ جسارت کا تجزیہ آسٹریلیا کو ہاٹ فیوریٹ قرار دیتا ہے۔ یہ تجزیہ یوں ہی نہیں اس کے پیچھے دلائل ہیں۔ پہلی دلیل تو یہ ہے کہ ٹیم مجموعی طور پر متوازن ہے۔ سب سے اچھی بولنگ ہے اور بیٹنگ میں مستقل مزاجی کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ فیلڈنگ میں بھی کسی سے کم نہیں۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن میں اسٹیون اسمتھ، ڈیوڈ وارنر، کپتان ایرون فنچ، عثمان خواجہ اور گلین میکسویل جیسے خطرناک بیٹسمین ہیں یہ تمام اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی میچ وننگ بیٹسمین ہیں اور یہ ماضی میں اس صلاحیت کا لوہا منوا بھی چکے ہیں۔
آسٹریلین بیٹنگ میں اسٹیون اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر خطرناک بیٹسمین ہیں ۔ آسٹریلیا کی بولنگ لائن کسی بھی بھی مخالف ٹیم کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے ۔
مچل اسٹارک،کین رچرڈسن ،ناتھن کلٹرنائل ۔ ناتھن لیون اور ایڈم زمپا پورے ورلڈ کپ میں سب سے اچھے بولرز ہیں۔اس ٹیم ہی کسی ٹورنامنٹ کی ہاٹ فیورٹ ہونے کا حق رکھتی ہے
2 ۔انگلینڈ
پنڈتوں کی فیورٹ ٹیم ہے ۔ آل رائونڈرز کے اعتبار سے سب سے زیادہ انگلش ٹیم میں ہیں ۔ ان کے بہترین آل رائونڈرز میں سے بین اسٹوکس دنیا کا بہترین آل رائونڈر ہے جبکہ معین علی ، کرس ووکس ، ٹام کورٹ بھی بہترین ہیں ۔ اس کے علاوہ کپتان ایون مورگن ، جو روٹ، جیسن رائے ، ڈیوڈ بیئرسٹو اور جوز بٹلر کی موجودگی کسی ٹیم کے بولرز کو پریشان کر سکتے ہیں ۔ زور عدار ، تیز اور دھواں دھار بیٹنگ کے ماہرین ان میں سب سے زیادہ خطرناک جوز بٹلر ہیں ۔
انگلینڈ شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوم گرائونڈ اور ہوم کرائوڈ کا فائدہ اٹھا لے ۔ کیونکہ اب یہ روایت بن رہی ہے 2011ء میں بھارت اپنے ملک میں فاتح رہا ۔ آسٹریلیا 2015ء میں اپنے ملک میں کامیاب رہا ۔ لہٰذا اسکا امکان ہے کہ انگلینڈ کامیابی حاصل کرلے ۔ انگلینڈ کی طرف سے بہت اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی ۔
3۔نیوزی لینڈ
اب تک ورلڈکپ نہ جیتنے والی موسٹ فیورٹ سیمی فائنلسٹ ہے اب تک کوئی ورلڈ کپ نہیں جیتا لیکن دو کے سوا تمام سیمی فائنلز تک پہنچی ہے۔ اس ٹیم میں بیٹنگ بولنگ اور فیلڈنگ ہر شعبے میںمتوازن ہے ۔ کے این ولیم سن کپتان ،مارٹن گپٹل، کولن منرو ، راس ٹیلر ،جمی نیشن کی شکل میں بہت مضبوط بیٹنگ لائن ہے جو بڑا سکور بھی کر سکتی ہے اور چیز بھی کر سکتی ہے ۔ بولنگ میں ٹرینٹ بولٹ ( گزشہ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے مچل اسٹار ک کے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا بولر تھا)ٹم سائوتھی اور کینز اچھے بولرز ہیں ۔ فائٹر ہیں جمی نیشن اور گرانٹس کومبس کی شکل میں دو بہت اچھے آل رائونڈرز ہیں ۔ ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں بھارت کو با آسانی ہرایا ۔ ان کی بولنگ کسی بھی ٹیم کے لیے خطرہ بن سکتی ہے ۔

4۔ بھارت
ورلڈ کپ کے دو مرتبہ کے چیمپئن ہیں ۔ ٹیم بن کر کھیلنے میں مشہور ہیں ۔ اس بار بھی انگلینڈ کے ساتھ ساتھ کرکٹ ماہرین اور بازوں کی نظر میں بھارت فیورٹ ہے ۔ بھارت کی بیٹنگ دنیا کی سب سے مضبوط بیٹنگ ہے ۔روہت شرما، شیکھر دھون ، ویرات کوہلی، کے ایل راہول کے علاوہ دھونی اور ونیج کارتک کی شکل میں بہت مضبوط بلے باز ٹیم ہے جس کو ہردیک پانڈیا اپنی جارحانہ بیٹنگ سے مزید مضبوط کر دیتا ہے ۔ آخری اوورز کا خطرناک بیٹسمین کہا جاتا ہے ۔ رویندر جدیجہ بھی اسکور بورڈ کومسلسل حرکت میںرکھنے والا بیٹسمین ہے ۔ بولنگ میں جسپت بمرا ، محمد شامی ، بھبھینش کمار ، امیش یادو ، کلدیپ یادو ، چاہل اور رویندر جدیچہ ایک متوازن بولنگ کمبی نیشن ہے ۔ا سپن اور پیس میں ۔ دھونی اور ویرات کوہلی جیسے تجربہ کار اعلیٰ معیار کے کھلاڑیوں کی موجودگی بھارت کے پاس تیسری مرتبہ عالمی کپ آ بھی جائے یا وہ فائنل میں آ جائے تو یہ کوئی سر پرائز نہ ہو گا ۔ بھارت ورلڈ کپ کی چار فیورٹ ٹیموںمیں شامل ہے ۔ اس ٹیم کی خصوصیت ہے کہ سخت مقابلے میں ہر کھلاڑی سخت جان ثابت ہوتا ہے ۔کھیل کے میدان میں کیا ہوتا ہے اس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن جس قسم کی ٹیم بھارت نے اتاری ہے اس کی موجودگی میں آسٹریلیا یا انگلینڈ کے ساتھ بھارت فائنلسٹ نظر آرہا ہے ۔ البتہ وارم اپ میچز میںبھارت کے ٹاپ آرڈر نہیں چلے ۔ دھونی اور راہول کے تجربے نے دوسرے میچ میں جتوایا ۔
5۔جنوبی افریقا:
پہلی مرتبہ جنوبی افریقا فیورٹ ٹیموں میں شامل نہیں ہے کوئی کرکٹ ماہر اسے پہلے چار میں بھی شامل کرنے کو تیار نہیں اور فیورٹ ٹیموں کو چھوڑ کر اگر کوئی ٹیم پہلے چار میں آتی نظر آ رہی ہے تو وہ جنوبی افریقا یا ویسٹ انڈیز اور ممکن ہے افغانستان کوئی اکھاڑ پچھاڑ کر دے ۔ جنوبی افریقا کی ٹیم میں فائو ڈویپلیسی کپتان اور اچھے بیٹسمین ہیں ۔ ان کو مضبوط بیٹنگ لائن ہاشم آملہ ، ڈی کوک جیسے منجھے ہوئے بھی ملے ہیں ۔ نئے کھلاڑیوں میں ڈوسن ، مارک کرم اگر یہ چل گئے تو جنوبی افریقا فیورٹ میں شامل ہو جائے ۔ بنگلا دیش کے خلاف جنوبی افریقا کو جھٹکا لگا ہے ۔
بولنگ میں بھی جنوبی افریقا آن پیپر مضبوط ہے ۔ آسٹریلیا ، انگلینڈ کے ساتھ ساتھ ہم پلہ ، ڈیل اسٹین دنیا کا بہترین فاسٹ بولر ہے۔ ربادا ، لونگی نگی ڈی ،فلی کویو اور عمران طاہر جیسے تجربہ کار اسپنر بھی ہیں ۔ فیلڈنگ میں ہاشم آملہ ہی نہیں دوسرے کھلاڑی بھی ہیں جن میں ڈومنی اور ڈوسیلر بھی شامل ہیں ۔ تاہم بنگلادیش نے جنوبی افریقا کو 21رنز سے شکست دے کر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
اگر جنوبی افریقا کے بیٹنگ بولنگ فیلڈنگ کمبی نیشن ساتھ چلا تو یہ ٹیم ٹورنامنٹ کے دوران واپس اوپر آجائے گی ۔
6۔ ویسٹ انڈیز
پہلے چار ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کے بعد اس ورلڈ کپ میں خطرناک ٹیم کے طورپر ابھر رہی ہے اور کرکٹ پنڈتوں کے سارے تجزیے ویسٹ انڈین ٹیم غلط ثابت کرسکتی ہے ۔ ویسٹ انڈیز اگرچہ اولین چار ٹیموں کے لیے فیورٹ قرار نہیں دی گئی ہے لیکن اس ٹیم سے کوئی بعید نہیں کہ کسی کو بھی ہرا دے ۔ یہاں تک کہ کرس گیل اتنا خطرناک بیٹسمین ہے کہ اکیلا آسٹریلیا کو شکست دے سکتا ہے ۔ یوں بھی ویسٹ انڈیز اگر آخری چار ٹیموں میں شامل نہ ہوئی تو یہ ضرور ممکن ہے کہ آسٹریلیا ،انگلینڈ یا بھارت کو شکست دے کر کوئی اپ سیٹ کر دے ۔ اور فائنل چار میںکوئی اور ٹیم آ جائے ۔
ویسٹ انڈیز کے اوپنر شائی ہوپ بہترین قابل اعتماد بیٹسمین ہے ۔ میچ کو آخر تک کھیلنے والا کھلاڑی ہے ۔ آندرے رسل ، ہٹ میئر اور ایون لوئس کی شکل میں بھی جارحانہ بیٹنگ کرنے والے کھلاڑی موجود ہیں ۔ جبکہ کپتان ہولڈر اور بریتھ ویٹ جیسے آل رائونڈر بھی ہیں ۔ گویا ورلڈ کپ کی کالی آندھی واپس آ سکتی ہے ۔
7۔ افغانستان
اپنی جارحانہ بیٹنگ ،اسپن بولنگ اور متناسب پیس بولنگ کے ساتھ کوئی بھی اپ سیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ٹیم میں صرف تجربے کی کمی ہے لیکن اگر فائٹنگ اسپرٹ اور اچھی بیٹنگ کی موجودگی میں اپ سیٹ ہو سکتا ہے۔ اوپنر محمد شہزاد حضرت اللہ ززئی ، حشمت اللہ شاہدی ، سمیع اللہ شنواری ،محمد نجیب جیسے بیٹسمین کسی بھی بولنگ کو اکھاڑ سکتے ہیں ۔ راشد خان ایک بہترین لیگ اسپنر ہے اس کے علاوہ مجیب بھی اچھے اسپنرز میں سے ہے ۔ ان کی موجودگی میں کسی بھی ٹیم کے لیے بھاری ہو سکتی ہے ۔ افغانستان سے ایک ہی غلطی ہوئی ہے وہ اصغر اسٹانکزئی کی جگہ نیا کپتان گل بدین نائب کو لانا ہے جس کی ٹیم میں عام حالات میں جگہ نہیں تھی ۔ یہ غلطی اسے بھاری پڑ سکتی ہے ۔
8۔بنگلادیش
جنوبی افریقا کے خلاف 330کا ایک بڑا مجموعہ اسکوربورڈ پر سجا کر بنگلادیش نے ورلڈکپ میں شامل دیگر ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اوپنر تمیم اقبال اورسومیا سرکار کے آئوٹ ہونے کے بعد دیکھنے میں یہ آرہاتھا کہ اب بنگلادیش کوئی بڑا ہدف نہیں دے سکے گی ۔ لیکن شکیب الحسن اور مشفق الرحیم نے سب کو غلط ثابت کرتے ہوئے ٹیم کے لیے ایک بہترین اسکورترتیب دیا۔ بنگلادیش ٹیم کے شکیب الحسن عالمی رینکنگ میں آل رائونڈر میں تاحال نمبر ون پوزیشن پر براجمان ہیں ۔ شکیب الحسن بیٹنگ کے شعبے میں مخالف ٹیم کو پریشان کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ مشفق الرحیم بھی لمبی اننگز کھیلنے والے بلے باز کے طورپر سامنے آئے ہیں۔ مستفیض الرحمن بہترین بولنگ کے ذریعے وکٹیں حاصل کررہے ہیں،ٹیم میں شامل محمد صیف الدین ،مشرفی مرتضی اور مصدق حسین مخالف ٹیموں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بنگلادیش چارفیوریٹ ٹیموں میں شامل نہیں مگر یہ کوئی بھی اپ سیٹ کرکے چارٹیموں کے درمیان گھسنے کی بھرپور کوشش کرسکتی ہے جس میں اس کی کامیابی کے چانس ففٹی ففٹی ہیں۔
9: سری لنکا: سب سے کمزور ٹیم سری لنکا نظر آ رہی ہے اس کے اندر بھی پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان کھینچائو والی کیفیت ہے ۔ عالمی چیمپئن رہنے والی ٹیم فی الحا ل کوئی تاثر نہیں بنا سکی ۔